خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 369 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 369

خطبات طاہر جلد 13 369 خطبہ جمعہ فرمودہ 20 رمئی 1994ء آگ میں جلنے والی لکڑیاں ہیں ان کو جلنے دو۔اگر یہ طرز عمل درست ہونا، اگر یہی رجحان حضرت اقدس محمد مصطفی حملے کا رجحان ہوتا تو تمام دنیا آگ میں جل جاتی۔ایک ایک کے لئے آپ کا دل نرم ہوا اور پگھلا ، ایک ایک کے لئے آپ کی رحمت پانی بن کے برسی اور جہاں جہاں گئے وہ تلخیوں کی آگ بجھاتے رہے بلکہ آپ کی دعائیں آج کی تلخیوں کی آگ بجھانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔آپ ہی کا فیض ہے جو احمد بیت بن کے ابھرا ہے اور آپ ہی کی رحمت اور دعاؤں کی بارشیں ہیں جو احمدیت پر برس رہی ہیں اور ہمیں دھو رہی ہیں اور ہمیں پاک کر رہی ہیں۔پس اس پہلو سے ان لوگوں کی اصلاح کی طرف توجہ بے انتہا ضروری ہے۔تمام دنیا کی جماعتوں کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ اخلاق کے مضمون کو سن کر یہ نہ سمجھیں کہ ہر انسان خود بخود سنے گا اور اس کے اندر پاک تبدیلی پیدا ہو جائے گی بلکہ بعض اخلاقی قدریں ایسی ہیں جن کی نظام جماعت کو بہر حال حفاظت کرنی ہوگی اور روز مرہ کی زندگی میں کسی احمدی کا کوئی ایسا فعل جو اس کو اور اس کے خاندان کو جہنم میں دھکیلنے والا ہو اس کو دیکھ کر جانتے بوجھتے ہوئے آپ برداشت کر جائیں اور آرام کی نیند سو جائیں، اگر ایسا ہوتو پھر آپ کے ایمان میں کوئی فرق ہے۔اگر ایسا ہے تو آپ نے سنت کا مضمون ہی نہیں سمجھا ، حضرت اقدس محمد مصطفی امت کے تعلق کا مفہوم ہی آپ پر روشن نہیں ہوا۔اس تعلق کے حوالے سے اور اس بنیادی اصول کے پیش نظر جو میں نے آپ کے سامنے کھول کر رکھا ہے کہ عبادت کو سچا کر دیں ، عبادت میں اخلاص اور پیار کے رنگ بھر دیں جو خدا تعالیٰ سے ذاتی تعلق کی صورت میں منتج ہو پھر بنی نوع انسان کی طرف ویسا سفر کریں جیسا حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے دَنَا فَتَدَلی (النجم : 9) کی صورت میں کیا۔خدا کے قریب ہوئے ، پھر زمین پر جھک گئے اور بنی نوع انسان کی ہمدردی میں ان کی بدیاں دور کرنے میں اپنی دعا ئیں صرف کر دیں، اپنے پاک نمو نے صرف فرما دیئے اور اس طرح رفتہ رفتہ وہ عظیم انقلاب مکہ اور مدینہ میں برپا ہوا جس نے آئندہ آنے والی دنیا کو تبدیل کرنا تھا۔وہ ایک ایسی ساعت تھی جس کے بطن سے ایک اور ساعت نے پیدا ہونا تھا اور یہ آخرین کا زمانہ وہی زمانہ ہے جس میں آنحضرت ﷺ کے زمانے میں رونما ہونے والا انقلاب از سرنو رونما ہو رہا ہے اور ہو کر رہے گا کوئی اس کو تبدیل نہیں کر سکتا۔مگر وہ بد نصیب جو اس انقلاب کی راہ میں روک بنتے ہیں اپنے کہلا کر راستے میں روڑے اٹکاتے ہیں اور اپنی