خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 368 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 368

خطبات طاہر جلد 13 368 خطبه جمعه فرموده 20 رمئی 1994ء ماں باپ کے حقوق ادا نہیں کرتے۔ان کو اتنی بھی تمیز نہیں کہ روز مرہ کی زندگی میں آپس میں گفتگو کیسے کی جاتی ہے۔تحکمات یا اعتراضات یا بد خلقی کا شکار ہو کر وہ خاندان جہنم کا نمونہ بن جاتے ہیں اور پھر آگے اولا دیں اتنا دور ہٹ جاتی ہیں کہ بعض دفعہ انسان ان کے حالات پر غور کر کے حیران کیا رہ جاتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ حیرانی اس کے لئے کافی نہیں۔بعض خط میں پڑھتا ہوں تو جسم پر لزرہ طاری ہو جاتا ہے۔ایک بیٹی لکھتی ہے ماں سے متعلق ، ایسی بد خلق عورت ہے اور تمام عمر اس نے میرے باپ کو ایسے ایسے دکھ دیئے ہیں کہ میں کچھ نہیں کہہ سکتی مگر آپ جتنی نصیحت کریں میرے دل سے اس ماں کے لئے دعا نہیں نکل سکتی اور ایک لڑکی اپنے باپ کے متعلق لکھتی ہے کہ ایسے ظلم کئے ہیں اس نے ماں پر اور پھر ان کے حوالے سے ہم سب پر اور یہاں تک کہ گندی گالیاں دینا تکیہ کلام بن گیا ہے اور ہمارے حوالے سے ہمارے سامنے کہتا ہے کہ یہ میری اولا د نہیں ہے۔جہاں یہ حالات ہوں وہاں عالمگیر انقلاب کا تصور محض ایک جنت الحمقاء میں بسنے والی بات ہے، اس کا کوئی بھی حقیقت سے تعلق نہیں۔پس وہ خشک شاخیں ہیں جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے درخت وجود کی سرسبز شاخوں میں کچھ ایسی بھی ہیں جو خشک ہو چکی ہیں۔فرمایا وہ کائی جائیں گی کیونکہ اس درخت نے تو ضرور سرسبز و شاداب رہنا ہے۔اس کا تو مقدر ہے کہ اس کی شاخیں تمام دنیا پر پھیل جائیں، تمام عالم پر محیط ہو جائیں اور روحانی پرندے اس میں گھونسلے بنا ئیں اور اس کی شاخوں میں آرام پائیں اور اس کے پھل پھول سے لذتیں حاصل کریں۔لیکن ایسی بھی ہیں جو خشک شاخوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ تم میرے وجود سے کاٹی جاؤ گی اور جہنم تمہارا ٹھکانا ہے۔اسی طرح جس طرح کہ خشک شاخوں کے لئے آپ کے سوا اور کوئی ٹھکانا نہیں ہوا کرتا۔ان کا انجام اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا پس اس پہلو پر نظر پڑتی ہے تو دل دہل جاتا ہے۔یہ میں جانتا ہوں اور کامل یقین ہے کہ جماعت کی بھاری اکثریت ان بد بختیوں سے آزاد ہے اور مبرا ہے لیکن بہت سے بیچ میں داخل ہیں اور جماعت کی طرف منسوب ہو رہے ہیں اور اپنے ماحول میں اپنی عفونت پھیلا رہے ہیں اور ان کے بدنمونے باہر نکلتے ہیں اور جماعت کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔اس لئے ان سب کو سنبھالنا ہمارا فرض ہے۔محض اس لئے نہیں کہ وہ جماعت کے لئے بدنامی کا موجب ہیں بلکہ اس لئے کہ ہمدردی کے وہ بھی تو مستحق ہیں۔ہم کیسے یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ