خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 367
خطبات طاہر جلد 13 367 خطبہ جمعہ فرمودہ 20 مئی 1994ء عام انسانی تعلق سے مختلف۔اس مضمون کی رو سے آپ کے جو اپنے گھر والوں سے تعلقات درست ہوتے ہیں اور اسوۂ نبوی پر درست ہوتے ہیں تو پھر وہاں ٹھہرتے نہیں۔پھر ہمسایوں کے ساتھ تعلقات استوار ہوتے ہیں اور درست ہوتے ہیں پھر ہمسایوں سے آگے بڑھ کر اہلِ محلہ اور اہلِ شہر اور اہل ملک یہاں تک کہ یہ پھیلتے چلے جاتے ہیں اور تمام حدود اس بات سے عاری ہو جاتی ہیں کہ ان کو روک سکیں اور محدود جگہ میں مقید کر سکیں۔علاقائی حدود کو بھی یہ تعلقات پھلانگ جاتے ہیں۔قومی حدود کو بھی تعلقات پھلانگ جاتے ہیں نسلی حدود کو بھی یہ تعلقات پھلانگ جاتے ہیں۔رنگ کی حدود کو بھی یہ تعلقات پھلانگ جاتے ہیں۔یہاں تک کہ عالمی صورت اختیار کر جاتے ہیں اور وہاں پھر کل عالم اپنا ہی خاندان کا ایک حصہ دکھائی دینے لگتا ہے اور اسی کے نتیجہ میں سچا انصاف جنم لیتا ہے ورنہ اگر اپنوں اور غیروں میں فرق دکھائی دیتا ر ہے تو پھر حقیقت میں آپ انصاف کا حق ادا نہیں کر سکتے۔تبھی قرآن کریم نے اس مضمون کو بڑھاتے بڑھاتے اِيْتَائِ ذِي الْقُرْبى تک پہنچا دیا۔یہ مراد نہیں ہے کہ اپنوں سے اور سلوک کرو اور ذِي الْقُرُبی سے اور سلوک کرو ذِي الْقُرْبی سے سلوک سے مراد یہ ہے کہ ہر مومن کا ہر دوسرے سے سلوک عدل سے شروع ہوتا ہے، احسان میں داخل ہوتا ہے۔احسان کی تمام منازل طے کرنے کے بعد ذوی القربیٰ کی حدود میں داخل ہو جاتا ہے اور پھر وہاں سارے اپنے دکھائی دیتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے اس مضمون کو سمجھانے کی خاطر انسان کو اللہ تعالیٰ کے عیال قرار دیا اور عیال سے مراد ہے جیسے گھر کے سب افراد ہوں۔ذی القربی کی ایک دوسری اصطلاح عیال ہے، عیال اللہ۔اگر سب مخلوق اللہ کی عیال ہے تو آپ کا تعلق عیال کے تعلق میں اسی طرح ڈھلے گا جیسے گویا آپ کی عیال ہو اور یہی وہ مضمون ہے جو میں آنحضرت ﷺ کے اسوہ کے حوالے سے جماعت کو سمجھا رہا ہوں۔عالمی تبلیغ کے ساتھ اس کا گہرا تعلق ہے، عظیم عالمگیر روحانی انقلاب بر پا کرنے کے ساتھ اس کا گہرا تعلق ہے۔اس کے بغیر آپ کو یہ اہلیت نصیب ہی نہیں ہو سکتی۔لیکن جب میں گھروں پر نظر ڈالتا ہوں تو بہت سے گھروں کے حالات دیکھ کر دل دہل جاتا ہے کہ ہم نے تو ابھی اس سفر کا بعض جگہ آغاز بھی نہیں کیا۔بہت سے احمدی گھر ہیں جہاں تعلقات بھیانک صورت میں پائے جاتے ہیں۔جہاں باپ بچوں کے حقوق ادا نہیں کرتا۔بیوی خاوند کے حقوق ادا نہیں کرتی۔بچے