خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 363 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 363

خطبات طاہر جلد 13 363 خطبه جمعه فرمودہ 13 مئی 1994ء نے اچھے بنا دیئے اور مجھے کیوں نسبتا خراب بنا کے دیئے وغیرہ وغیرہ۔ یہ جاہلانہ سطحی باتیں ہیں سب مٹ جائیں گی کیونکہ جب ایک غریب کو پرانے کپڑوں میں دیکھیں گی اگر انسانیت ہے تو دل پگھلیں گے اور شرمندگی کا احساس ہوگا اور اپنے آپ کو وہ لوگ مجرم سمجھیں گے کہ ہمارے اتنے تعلقات تو تھے واقفیت تو تھی کہ ہم نے ان کو بلایا ہے لیکن کیوں یہ خیال نہ کیا کہ ان کے لئے بھی اچھے کپڑے بنا دیئے جاتے ۔ اور پھر جب غریب کی شادی پر آپ جائیں گے تو پھر آپ کو محسوس ہوگا کہ کیا کیا مسائل ہیں شادیوں کے۔ کہاں اپنے حال میں ڈوبے ہوئے امراء جن کے دماغ میں صرف یہ ہے کہ تین لاکھ سے کم میں شادی نہیں ہوتی پانچ لاکھ سے کم میں شادی نہیں ہوتی دس لاکھ سے کم میں شادی نہیں ہوتی کہاں وہ جو دو چار ہزار میں شادی کی کوشش کر رہے ہیں اس نے بچوں کے لئے بھی غریبانہ کچھ بنا کے دینا ہے، جو مہمان آنے والے ہیں ان کے لئے بھی کچھ پیش کرنا ہے تو یہ مسائل سوائے اس کے حل نہیں ہو سکتے کہ آنحضرت مال سے آپ کے اخلاق سیکھے جائیں ۔ کسی دوسرے سے نہیں خود آپ سے آپ کے اخلاق سیکھے جائیں اور وہ یہ حدیثیں ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زبانی بھی اور آپ کے کردار کی زبانی بھی آپ کے اخلاق ہمارے سامنے رکھتی ہیں۔ فرمایا شادی کی بدترین وہ مثال ہے کہ غریبوں کو نہ بلاؤ اور جب غریب تمہیں بلائیں تو تم اگر نہ جاؤ گے تو خدا اور رسول کی نافرمانی ہوگی۔ صلى الله پھر آنحضرت ﷺ کا اپنے غلاموں سے سلوک، غلاموں سے مراد یہ ہے ادنی غریب بندوں سے سلوک ایک ایسے معاشرے میں جس کے اخلاق آپ نے درست فرما دیئے تھے۔ اس معاشرے میں بھی وہ ایک تعجب انگیز سلوک تھا حیرت سے نگا ہیں اس پر اٹھ رہی تھی اور اس سے میری مراد وہ واقعہ ہے جو ظاہر بن حرام کے ساتھ پیش آیا۔ ظاہر بن حرام ایک دیہاتی تھا جو نہایت ہی بدصورت اور مکروہ صورت اور اس کے علاوہ اس کے کپڑے بھی گندے، دیہاتی کھیتوں میں کام کرنے والے کے جسم میں سے پسینے کی بد بو بھی آتی تھی اس کو رسول اللہ ﷺ سے بہت پیار تھا جب بھی آتا تھا کوئی تھوڑی سی سبزی ، کوئی ایک گاؤں کا پھل تحفہ اٹھا کر لے آیا کرتا تھا۔ ایک دفعہ وہ کھڑا تھا کہ اچانک اس نے دیکھا کہ کسی نے پیار سے اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیئے ہیں اور اس نے حیرت سے پوچھا اور اس نے اپنا جسم ساتھ رگڑنا شروع کیا پہچاننے کی غرض سے گویا پہچان پا رہا