خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 362
خطبات طاہر جلد 13 362 خطبہ جمعہ فرمودہ 13 مئی 1994ء امیروں کی دعوت میں غریبوں کو بلایا نہیں جاتا۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں ”شادی کی بدترین دعوت اور اکثر ایسا شادی بیاہ کے موقع پر ہوتا ہے فرمایا شادی کی بدترین دعوت وہ ہے جس میں امراء کو تو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے اور اس کے ساتھ ایک عجیب بات فرمائی اور ”جو شادی کی دعوت کو قبول نہ کرے وہ اللہ اور اس کے رسول کا نافرمان ہے اب یہ ایک وسیع مضمون کا ایک ٹکڑا ہے اور اگر اس کو پہلے مضمون کے تعلق کے ساتھ جوڑ کر نہ سمجھیں تو بات سمجھ میں نہیں آئے گی۔بیسیوں مرتبہ آپ نے بھی شادی کی دعوت کو کسی مجبوری سے قبول نہیں کیا ہوگا اور جہاں تک اپنے قریبیوں، دوستوں، عزیزوں کی شادی کی دعوت کا تعلق ہے وہ تو آپ شوق سے جاتے ہیں انتظار کرتے ہیں کہ آپ کو دعوت نامہ آئے بعض دفعہ نہ بھی آئے تو چلے جاتے ہیں۔پھر کن دعوتوں کا ذکر ہے یہ اصل میں غریب دعوتوں کا ذکر ہے امراء کے مقابل پر غریبوں کا ذکر چلا ہے۔فرمایا ہے بدنصیب اور بد بخت ہیں وہ شادیاں جن میں بلانے والے غریبوں کو نہ بلائیں اور صرف امیروں کو بلائیں اور پھر جب غریب اپنی شادیوں پر ان کو بلائیں تو یہ وہاں نہ جائیں کہ یہ غریبوں کی شادی ہے۔اس لئے شادی بیاہ کے موقع پر میں نے جماعت کو نصیحت کی تھی اور اب وہ غالبا چھپ کر تمام دنیا میں پہنچ چکی ہوگی اس میں یہ بات بطور خاص داخل کی تھی کہ امیروں کو خاص طور پر غریبوں کی شادی میں پہنچنا چاہئے بلکہ کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اور ان کی بچیاں جو بھی اس بات کے لئے وقت نکال سکیں وقت سے پہلے وہاں جائیں اور ان کے گھروں کو صاف ستھرا کریں ان کو تیار کریں ان کی کمیاں دور کریں، کھانا پکانے وغیرہ میں ان کی مدد کی جائے اور جو چیزیں وہ نہیں خرید سکتے وہ اپنی طرف سے خرید کر ان میں داخل کریں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اگر وہ جائیں اور ان کی غربت کو دیکھیں کیونکہ محض نصیحت سے انسان کا دل حقیقت میں پگھل نہیں سکتا لیکن آنکھیں جب دیکھتی ہیں ایک حالت کو تو پھر ضرور پگھلتا ہے۔پس آنحضرت ﷺ نے جو نصیحتیں فرمائی ہیں بہت ہی گہری، بہت ہی دیر پا اور دور کا اثر رکھنے والی ہیں کیونکہ حقیقت ہے کہ جب ایک غریب آپ کی شادیوں میں آئے گا اس کے کپڑوں کو آپ دیکھیں گے اور پھر اگر کوئی انسانیت ہو اور وہ عورتیں جو آپس میں پہلے یہ جھگڑ رہی تھیں کہ میرے کپڑے ایسے تھے اور تیرے کیسے ہو گئے جو گھر میں بچیاں شکوے کرتی ہیں کہ میری فلاں بہن کے تم