خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 361 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 361

خطبات طاہر جلد 13 361 خطبه جمعه فرمودہ 13 مئی 1994 ء اگر طبیعت پر بار رہتا ہے تو پھر آپ نے سنت پوری نہیں کی اگر محمد رسول اللہ کی سنت پر چلنا ہے تو پھر اپنے کمزور بھائیوں سے ایسا ذاتی تعلق پیدا کریں کہ ان کی مدد سے آپ کے دلوں میں خوشی پیدا ہوتی ہو اور اس سے لطف آتا ہو اور اگر یہ ہو جائے تو آپ کی پ کی نیکی کی حفاظت کے لئے اس سے بڑا ضامن اور کوئی نہیں۔ ہر وہ نیکی جو کوفت پیدا کرتی ہے جس سے تھکاوٹ ہو یا بیزاری ہو، وہ نیکی نہ افراد میں زندہ رہتی ہے نہ قوموں میں زندہ رہا کرتی ہے۔ نیکی وہی زندہ رہتی ہے جس کے ساتھ ایسا ذاتی تعلق ہو کہ نیکی کے بعد لطف آئے ۔ پس ہر انسان اس پہلو سے خود غرض ہے۔ وہ غرض کے بغیر کوئی چیز نہ اختیار کر سکتا ہے نہ کسی چیز کو ہمیشہ کے لئے اپنا سکتا ہے۔ وقتی طور پر بعض مجبوریوں کے پیش نظر ، بعض اصولوں کی خاطر ایک انسان طبیعت کے خلاف کام بھی کر لیتا ہے مگر ہمیشہ وہ نیکیاں اس کے ساتھ نہیں رہتیں جب تک اس کے دل کا جزو نہ بن جائیں ، جب تک ان نیکیوں سے پیار نہ پیدا ہو جائے اور ان نیکیوں کے کرنے سے دلوں میں ایک طبعی بشاشت پیدا نہ ہو۔ پس یہ صحابی بڑے ہی زیرک انسان تھے جنہوں نے سیرت کو بیان کیا ہے اور کسی گہرائی سے بیان کیا ہے۔ محسوس کیا کہ محمد رسول الله ﷺ جب خدمت کرتے تھے تو کوئی طبیعت پر بوجھ نہیں ہوتا تھا بلکہ خوشی کا احساس نمایاں تھا۔ اس سے لطف آ رہا ہے کہ آہا کتنا اچھا موقع ملا میں اپنے غریب بھائی کے کام آ رہا ہوں ۔ پھر آنحضرت ﷺ کے متعلق حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ آپ نے ایک موقع پر فرمایا کہ شادی کی بدترین دعوت وہ ہے جس میں امراء کو بلایا جائے اور غرباء کو چھوڑ دیا جائے۔ ئے۔ (مسلم کتاب ب النكاح النکاح حديث حد یہ : 2586) اب ہمارے ملک میں بھی میں نے دیکھا ہے کہ دن بدن یعنی پاکستان کی بات میں کر رہا ہوں اور اس طرح اور بھی بہت سے ملکوں میں یہ رواج ہے اور یورپ میں تو اس بات کا تصور ہی نہیں کہ اپنے تعلقات کے دائرے سے ہٹ کر بھی کسی کو دعوتوں میں بلایا جائے مگر ہمارے ملکوں میں بھی یعنی نسبتا غریب ملکوں میں یہ رواج اب زور پکڑ رہا ہے کہ امراء کی دعوتیں اتنی اونچی سطح پر اٹھتی ہیں کہ وہاں کسی غریب کو چہرہ دکھانے کی بھی مجال نہیں اور اگر غریب رشتہ دار بھی ہوں تو ان سے انحراف کیا جاتا ہے کہ کہیں ہمارے لئے شرمندگی کا موجب نہ بنیں اور امیروں کی دعوتیں الگ ہیں ، ان کے اندر ہی عیش و عشرت کے الگ ہیں اور غریبوں کی دعوتیں الگ ہیں غریبوں کی دعوتوں میں امیر نہیں جاتے اور