خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 359 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 359

خطبات طاہر جلد 13 ہے، تو یہ بدیاں بھی ہیں ۔ 359 خطبه جمعه فرمودہ 13 مئی 1994ء نہیں حسن سلوک کرنے کا جو مادہ ہے اگر وہ نہ رہے تو بدی میں تبدیل ہو جایا کرتا ہے۔ بے تعلقی بے تعلقی میں ہی رہتی ہے اس لئے نہ حسن نہ فتیح، نہ خوبی نہ برائی۔ مگر وہ تو میں جو اپنی خوبیوں کی حفاظت لئے نہ نه نہ تو کرتیں وہ خوبیاں پھر بدیوں میں تبدیل ہو جایا کرتی ہیں ۔ پس اگر آپ نے حسن سلوک نہ کیا تو اس حدیث کی نصیحت کے یا انذار کے نیچے آپ آئیں گے۔ فرمایا وہ مومن نہیں خدا کی قسم وہ مومن نہیں ۔ پوچھا گیا کون؟ تو فرمایا وہ جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں اور اچانک حملوں سے محفوظ نہ ہو۔ حضرت انس سے روایت ہے صحیح بخاری کتاب الایمان میں کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا۔ تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک حقیقی مومن نہیں بن سکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ جس طرح قرآن کریم کا مضمون اقرباء سے شروع ہو کر پھر پھیلتا چلا جا رہا ہے احادیث میں بھی اقرباء کے ذکر بڑی عمدگی اور گہرائی اور تفصیل کے ساتھ ہیں اور پھر درجہ بدرجہ تعلقات کے پھیلاؤ کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی نصیحتوں کا فیض بھی پھیلتا چلا جاتا ہے۔ فرمایا کوئی مومن حقیقی مومن نہیں بن سکتا۔ اس مرتبہ اس کی یہ تشریح فرمائی جب تک اپنے بھائی کے لئے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی چھوٹی سی نصیحت ہے جس سے بڑی نصیحت ممکن ہی نہیں ہے انسانی تعلقات کو درست کرنے کے لئے اس چھوٹی سی بات میں تمام انسانی مصالح بیان فرما دیئے گئے ہیں ایک طرز فکر کا ذکر ہے۔ اگر تم اپنے بھائی کے لئے وہی پسند کرو جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو تو اس کی عزتیں تم سے محفوظ ہو گئیں، اس کے مال تم سے محفوظ ہو گئے ، اس کے تمام حقوق تمہارے ہاتھوں میں اسی طرح محفوظ ہوں گے جس طرح اس کے اپنے ہاتھوں میں ہیں ۔ اتنی عظیم الشان تعو ن تعلیم ہے کہ تمام دنیا کے انسانی روابط میں خواہ وہ انفرادی سطح پر ہوں یا ملکی اور تمدنی سطح پر ہوں تمام دنیا کے مسائل کا حل اس اصلاحی مشورے میں داخل ہے کہ تم دوسروں کے لئے وہی چیز پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو ۔ اب تمام دنیا میں جو ملکی سیاست چل رہی ہے اس میں کہاں اس بات کو داخل ہونے کی گنجائش ہے وہ اپنے لئے کچھ اور پسند کرتے ہیں دوسرے کے لئے کچھ اور پسند کرتے ہیں۔ رشتے داروں میں بھی یہی حال ہو رہا ہے یہاں تک کہ بعض دفعہ مشورہ بھی مانگا جائے تو مشورہ دینے