خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 356
خطبات طاہر جلد 13 356 خطبہ جمعہ فرمودہ 13 مئی 1994ء جائیں وہاں دونوں طرف سے ایسے ایسے پیارے فدائیت کے خط آتے ہیں کہ دل کی گہرائیوں سے از خود دعائیں اٹھتی ہیں اور ایک عجیب کیفیت طاری ہو جاتی ہے کہ سبحان اللہ کیسی پیاری بہو اور کیسی پیاری ساس ہے کہ اپنے خطوں میں الگ الگ ایک دوسرے کی تعریفیں، ان کے لئے دعائیں، انہوں نے ہمارا دل راضی کر دیا۔بہوئیں لکھتی ہیں کہ ہمیں تو بعض دفعہ لگتا ہے وہ ہماری ماں سے زیادہ پیار کرنے والی ہے اور ساسیں لکھتی ہیں کہ ہماری بیٹیوں نے کب ہماری ایسی خدمت کی تھی جیسی یہ بہوکررہی ہے، یہ تو بیٹیوں سے بڑھ گئی ہے۔پس جہاں حسن خلق ہو وہاں نا انصافیوں کا تو وہم و گمان بھی باقی نہیں رہتا۔احسان سے معاملہ ایتاء ذی القربیٰ میں داخل ہو جاتا ہے اور دنیا میں انسان کو جنت مل جاتی ہے۔پس میری یہ کوشش ہے اور میں لمبے عرصے سے یہ کوشش کر رہا ہوں کہ جماعت احمدیہ کے بنیادی اخلاق درست ہو جائیں تو ہمارے تمام معاشرتی اور باہمی لین دین کے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔بنیادی طور پر حسن خلق ہے جو حقیقت میں قوموں کو زندہ کیا کرتا ہے اور حسن خلق ہی ہے جو دنیا پر غالب آیا کرتا ہے دلائل اور مسائل سے دنیا نہیں جیتی جاتی۔دلائل اور مسائل سے تو بعض دفعہ فساد بڑھتے ہیں۔لیکن حسن خلق سے گھر بھی جیتے جاتے ہیں اور گلیاں بھی جیتی جاتی ہیں اور شہر بھی جیتے جاتے ہیں اور ملک بھی جیتے جاتے ہیں۔تمام دنیا کی فتح حسن خلق پر مبنی ہے اور آنحضرت ﷺ کے ہاتھوں میں دعا کے بعد سب سے زیادہ قوی ہتھیار حسن خلق کا ہتھیار تھا۔پس گھریلو مسائل ہوں یا تمدنی مسائل ہوں یا (دیوان غالب) مذہبی E مسائل ہوں جماعت احمدیہ کو ایسے اعلیٰ اخلاق اختیار کرنے چاہئیں کہ جن کے نتیجے میں جن کو لوگ مسائل کہتے ہیں وہ دکھائی نہ دیں، مسائل اٹھیں ہی نہ۔کیونکہ اعلیٰ اخلاق کے آدمی کے سامنے مسائل گھلتے رہتے ہیں جیسے غالب کہتا ہے۔پر تو خلد سے ہے شبنم کی فنا کی تعلیم اس طرح بد اخلاقیاں اور مسائل ایک اعلیٰ اخلاق کے چہرے کے سامنے از خود گھل جاتے ہیں پس صلى الله وہ اعلیٰ اخلاق ہیں جن کو محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت کے حوالے سے میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔حضرت اقدس محمد مصطفی ماہ کے متعلق بخاری میں حضرت ابن عمر کی یہ حدیث درج ہے ابن عمرؓ، حضرت عائشہ سے بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جبریل ہمیشہ مجھے پڑوسی سے