خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 355 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 355

خطبات طاہر جلد 13 355 خطبہ جمعہ فرمودہ 13 مئی 1994ء گا۔یہ ہے حفظ مراتب کا معاملہ۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ہر دوسرا تعلق اس کے مقابل پر کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا اب جو کچھ کرو اللہ کی خاطر کرو کیوں کہ ہر شریک کی نفی ہو چکی ہے۔ہر خاطر کی نفی ہو چکی ہے۔اللہ کی خاطر کرو اور سب سے پہلے یا درکھو کہ اللہ تمہیں والدین سے احسان کے سلوک کی ہدایت فرماتا ہے۔اب احسان کا سلوک جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے حقوق کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا اور بہت ہی باریک توازن ہے جو آپ کو لا زما اختیار کرنا ہوگا۔اگر ماں اس بات پر راضی ہے کہ آپ دوسروں سے عدل کا سلوک نہ کریں تو پھر آپ کا ماں سے راضی رہنا یا ماں کو راضی رکھنا فرض نہیں ہے بلکہ اگر آپ عدل کو قربان کر کے ایسا کریں گے تو خدا سے بے وفائی کر کے ایسا کریں گے۔لیکن دوسری طرف یہ بھی حکم ہے کہ ماں باپ چاہے زیادتیاں کرتے چلے جائیں ان کے سامنے اُف نہیں کرنی۔ایسی صورت میں ماں باپ کی زیادتیاں برداشت کریں۔وہ جتنے طعنے دیں، جس قد رسخت کلامی کریں آپ اف نہ کریں کیونکہ خدا کی خاطر آپ یہ برداشت کر رہے ہیں لیکن کسی کی حق تلفی نہیں کرنی۔اس کے برعکس دوسری صورت بھی ہے کہ ماں باپ کو ایک ردی کی چیز کے طور پر پھینک دیا جاتا ہے اور بیوی بچوں کے ساتھ ایک انسان عیش وعشرت کی زندگی بسر کرتا ہے۔یہ بھی نہ صرف عدل کے تقاضوں کے بالکل مخالف ہے بلکہ ایک بہت بڑا گناہ بن جاتا ہے۔یہ جو صورت حال ہے اس کو باریک توازن کے ذریعے درست حالت میں رکھنا ایک بڑا مشکل کام ہے۔لیکن اگر آپ غور کریں تو معلوم ہو جائے گا کہ اصل معاملہ حسن خلق یا بد اخلاقی کا ہے۔وہ لوگ جن کے اخلاق درست ہوں وہاں یہ مسائل اٹھتے ہی نہیں ہیں۔جن کے اعلیٰ اخلاق ہوں وہاں تو اس بات کا کوئی واہمہ بھی پیدا نہیں ہوسکتا کہ کوئی بیٹا ماں اور بیوی کے حقوق کے درمیان یہ جنگ لڑ رہا ہو کہ کس کو کیا دوں اور کس سے کیساسلوک کروں۔وہاں تو ہر آدمی ایک دوسرے پر فدا ہورہا ہوتا ہے، ایک دوسرے کے لئے قربانی کر رہا ہوتا ہے۔چنانچہ ماں باپ کے علاوہ ایک دوسری لسٹ لمبی سی ہے ان کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔پس میں نے جہاں تک ان حالات کا جائزہ لیا ہے مجھے ہر دفعہ بنیادی بیماری اخلاق کی کمزوری دکھائی دیتی ہے جہاں مائیں مثلاً اچھے اخلاق کی ہوں اور بہوئیں بھی اچھے اخلاق کی وہاں مل