خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 345 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 345

خطبات طاہر جلد 13 345 خطبہ جمعہ فرمود و 6 رمئی 1994ء سخت سزا دی جاتی ہے اور باہر اس لئے نہیں آئی کہ اس کے ساتھ تعلقات ٹھیک تھے اور غصے کی کوئی وجہ پیدا نہیں ہوئی۔اب جبکہ بڑے عہدیدار نے چھوٹے عہدیدار کو پکڑا ہے تو انہوں نے کہا اچھا پھر یہ بات ہے تو پھر ایک پرانی بات میں نے سوچی ہوئی تھی کہ تم یہ کیا کرتے تھے اور میں سب کو بتاؤں گا اور بتانا شروع کر دیا۔پھر تحقیق ہوئی تو مانا کہ ہاں میں نے بتایا ہے لیکن اس نے کہی تھی یا یہ حرکت کی تھی۔کب کی تھی؟ چھ سال پہلے۔تو چھ سال تک تم سوئے کیوں رہے اور ذمہ داری اس کی پتاکس پر ڈالی؟ مجھ پر۔کہتے تھے انہوں نے خطبے دیئے تھے کہ تقویٰ اختیار کرو میں نے تقویٰ اختیار کر لیا۔انا للہ وانا اليه راجعون اگر یہی تقویٰ کا پیغام آپ کو پہنچا ہے تو میری تو بہ پھر اس تقویٰ سے۔جہالت ہے یہ تو ایسا الزام ہے مجھ پر کہ اپنے جرم میں مجھے بھی آپ شامل کر رہے ہیں۔وہ فعل اپنی ذات میں ایک نہایت مکروہ فعل ہے۔ظن پر کسی پر الزام لگانا اور اسلام اس کے خلاف سختی کی تعلیم دیتا ہے۔بڑی سخت سزا مقرر کی گئی ہے اور پھر چھ سال تک خاموش بیٹھا ر ہے انسان ، اور تقوی کی بات سن کر یہ گناہ کی بات یاد آ جائے کہ یہ گناہ میں نے کرنا تھا میں کر نہیں سکا۔ایسے آدمی کی تو جماعت میں کوئی گنجائش نہیں۔جماعت تو اپنا فیصلہ کرے گی لیکن میں جماعت جرمنی کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ خطن کے اوپر آپس میں اختلافات پھیلے ہوں اور افتراق پیدا ہوا ہو وہاں یہ بیماری عام ہے۔ایک دوسرے کی ٹوہ لگاتے ہیں سوچتے ہیں کہ اس نے یہ کیا ہوگا اس کے بعد یا اس کو مشتہر کرنا شروع کر دیتے ہیں یا انتقام لینے کے لئے پہلے باندھ کے بیٹھ جاتے ہیں۔آج نہیں تو کل اللہ تعالیٰ ان کو ننگا کرے گا اور ان سے نظام جماعت بھی سختی سے سلوک کرے گا یعنی وہ بختی جو انتظامی سختی ہوا کرتی ہے۔مگر میں جماعت جرمنی کو نصیحت کرتا ہوں وہ تقویٰ اختیار کریں استغفار سے کام لیں۔اس طریق پر آپ کی اصلاح کے دروازے بند ہو جائیں گے اگر آپ ان بدیوں سے باز نہیں آئیں گے۔بہر حال یہ چند صیحتیں ہیں۔وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا نصیحت ہے آخر پر جو بہت ہی اہمیت رکھتی ہے۔فرمایا در اصل بعض برائیوں کی جڑھ اس بات میں ہے کہ تم ایک دوسرے کے خلاف ان کی پیٹھ پیچھے باتیں کرتے رہتے ہو۔ان کو بدنام کرتے رہتے ہو اور اس میں لطف اٹھاتے ہو۔فرمایا تمہیں علم نہیں ہے کہ یہ کیسی گندی اور ذلیل حرکت ہے۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے تمہارا بھائی مرجائے تو مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانے لگو۔فرمایا فَكَرِهْتُمُوهُ تم اس سے