خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 344 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 344

خطبات طاہر جلد 13 344 خطبہ جمعہ فرموده 6 رمئی 1994ء تم سے اور توقعات ہیں اس لئے بجتی نہیں ہے تم پر بات۔بَعْدَ الْإِيْمَانِ ایسی باتیں اور اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے۔ایک عام انسان بھی کسی آدمی کو منہ پہ یہ کہے کہ دیکھو تم کون ہو؟ ایسی با تیں تم پر بھی نہیں تو اچانک اس کے دل میں ایک شرمندگی کا احساس پیدا ہوتا ہے اور یہ طر ز نصیحت ہے جو بڑی مؤثر ہے مگر جب اللہ فرمائے اور اپنے عاجز بندوں سے اس طرح پیار سے مخاطب ہو۔جس میں ایک قسم کا شکوہ بھی ہے اور پیار بھی ہے کہ دیکھو ایمان لے آئے ہو۔ایمان کے بعد ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں تو اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی محبت بھی دل میں بڑھنی چاہئے اور جن باتوں سے خدا روکتا ہے غیر معمولی جذبے کے ساتھ ان سے رکنے کی کوشش کرنی چاہئے لیکن ساتھ فرمایا وَمَنْ لَّمْ يَتُبْ فَأُولَيكَ هُمُ الظَّلِمُونَ ہم تمہیں پیار سے سمجھا رہے ہیں باز آ جاؤ اگر نہیں رکھو گے تو پھر ظالم بنو گے اور ظالموں کے ساتھ پھر اللہ تعالیٰ کا سلوک بالکل معلوم اور معروف ہے۔ظالموں سے خدا محبت نہیں کیا کرتا۔خدا سے نجات کے تعلق کے سب رشتے ٹوٹ جائیں گے۔ایک تو یہ مرتبہ ہے کہ تمہاری برائیوں کے باوجود اللہ تعالیٰ تمہیں پیار سے سمجھا رہا ہے۔اپنا نا کہہ کے بلا رہا ہے کہتا ہے تم ایمان والے ہو، تمہیں یہ باتیں زیب نہیں دیتیں اور پھر فرماتا ہے کہ میں تمہیں سمجھا رہا ہوں۔سمجھ جاؤ تو بہتر ہے ورنہ پھر تم ظالم ہو جاؤ گے پھر میں یہ نہیں کہوں گا کہ تم میرے ہو اس لئے تمہیں زیب نہیں دیتیں۔پھر تم سے وہی سلوک ہوگا جو ظالموں کی قوموں سے کیا جاتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِ اِثْم اس پر میں آج کے خطبے کو ختم کروں گا کیونکہ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو جرمنی میں کافی پائی جاتی ہے۔بہت سی خرابیوں کی جڑ ظن ہے۔الزام تراشی یہاں تک کہ بعض دفعہ ایسا بھی واقعہ ہوا ہے کہ ایک نسبتا بڑے علاقے کا افسر ہے یعنی امیر ہے یا صدر ہے بڑے علاقے کا۔ایک مقامی چھوٹی جماعت کا صدر ہے اور امیر کی طرف سے کوئی پکڑ ہوئی ہے چھوٹے عہدیدار کی تو بجائے اس کے کہ وہ اپنی اصلاح کرتا اس نے کوئی چھ سال کی پرانی بات نکال لی اور اس کو شہرت دے دی کہ اس امیر نے یہ حرکت کی تھی۔اب تعجب ہوا مجھے جب اطلاع ملی میں نے تحقیق کروائی، میں نے کہا یہ کیسی جاہلانہ بات ہے اگر وہ ایسی بے ہودہ بات تھی تو چھ سال پہلے کیوں باہر نہیں آئی۔تو پتا چلا کہ اول تو اس وقت بھی ظن ہی تھا اور ایسا ظن تھا جس کی اسلامی معاشرے میں بڑی