خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 343 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 343

خطبات طاہر جلد 13 343 خطبہ جمعہ فرموده 6 مئی 1994ء ہیں اس طرح کسی کا کچھ نام رکھا ہوا ہے کسی کا کچھ نام رکھا ہوا ہے لیکن بعض نام پیار سے رکھے جاتے ہیں انہیں وہ القاب شمار نہیں کیا جا سکتا جن کا ذکر قرآن کریم فرمارہا ہے اب چھوٹے میاں ہیں۔چھوٹو رام تھے ان کا تو شاید نام ہی یہی تھا مگر قد چھوٹا ہو تو اس کو چھوٹے میاں، منے میاں کہہ دیتے ہیں اور اس قسم کے نام پیار کے ہوتے ہیں اور وہ نام ان کو تکلیف نہیں دیتے۔پس وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَاب کی تعریف حقیقی طور پر یہی ہے کہ ایسا کوئی نام نہ رکھا کرو جس سے اس شخص کو تکلیف پہنچے۔اگر اس تعریف کے سوا کوئی اور تعریف کرنے کی کوشش کریں گے تو وہ درست ثابت نہیں ہوگی۔پس تکلیف پہنچانے کی عرض سے کوئی نام نہیں رکھتے اور اگر کوئی نام تکلیف پہنچاتا ہے خواہ نیک نیتی سے رکھا ہو تو اس سے وہ ہاتھ کھینچ لیتے ہیں اور توبہ کر لیتے ہیں۔وہی نام دینے چاہئیں جن میں پیار کا اظہار ہو محبت کا اظہار ہو۔وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ میں فرمایا اپنے آپ کو أَنْفُسَكُمْ سے مراد ہے تم اپنے آپ کو۔ظاہر ہوا کہ اسلامی تصور میں مسلمان بھائی بھائی ہیں اور اس حد تک بھائی بھائی ہیں کہ وہ اگر کسی بھائی کو نقصان پہنچاتے ہیں تو اپنے آپ کو نقصان پہنچانا ہے۔تو اس انداز سے یہ نصیحت فرما دی کہ تم اگر کسی کو کوئی نقصان پہنچا ؤ گے تو اپنے آپ کو نقصان پہنچاؤ گے اور اپنی سوسائٹی کو نقصان پہنچاؤ گے۔اس میں دو پہلو ہیں اول یہ کہ اَنْفُسَكُمْ کہہ کر اچانک ایک خوابیدہ بھائی چارے کے احساس کو جگا دیا گیا۔فرمایا تم سمجھتے ہو تم دوسروں کو طعنہ دے رہے ہو تم تو اپنوں کو طعنہ دے رہے ہو بڑے بے وقوف لوگ ہو۔پھر یہ فرمایا کہ اپنے آپ کو اگر نقصان پہنچاؤ گے تو وہ ساری جماعت کو نقصان پہنچے گا اور ایسی جماعتیں پھر دنیا میں ترقی نہیں کرتیں ان کو بحیثیت جماعت نقصان پہنچ جاتا ہے۔بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ ان باتوں کو فسوق فرمایا ہے۔فرمایا جب تک تم ایمان نہیں لائے تھے ایسی باتیں کیا کرتے تھے وہ بھی بری تھیں لیکن ایمان لانے کے بعد، پھر ایسی باتیں ، یہ تمہیں زیب نہیں دیتیں۔سجتی نہیں۔پس یہ کہنا کہ جی ہمارا ملک ہی ایسا ہے وہاں سے ہم لوگ یہی برائیاں لے کے آئے ہیں اور سارے ہی ایسے ہیں اس آیت کے بعد یہ دلیل نہیں چل سکتی۔فرماتا ہے بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيْمَانِ باقی ایمان تو نہیں لائے کہ ان سے توقعات بلند ہو جا ئیں۔تم جو ایمان لے آئے ہو