خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 29 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 29

خطبات طاہر جلد 13 29 خطبه جمعه فرمودہ 14 جنوری 1994 ء حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے تو وہ لقمہ تمہاری عبادت بن جائے گا۔ ( بخاری کتاب الایمان ) اب اس صلى الله حدیث کی روشنی میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی ساری زندگی کے تعلقات کو دوبارہ دیکھیں تو ہر تعلق میں آپ کو دولد تیں دکھائی دیں گی۔ ایک وہ جو خدا کی پاک تعلیم کے نتیجے میں اس کی محبت کی بنا پر آپ نے بنی نوع انسان سے تعلق رکھا۔ اس تعلق کی ایک اپنی لذت تھی جو آپ نے حاصل کی لیکن چونکہ اس محبت کا آغاز اللہ کی محبت سے ہوا تھا اسی لئے اس کے ساتھ ایک بہت اعلیٰ درجے کی محبت بھی شامل رہی اور ساری زندگی آپ نے دو جنتوں میں گزاری۔ پس ذکر کا مضمون سرسری بیان سے سمجھ نہیں آ سکتا اس کے لئے ساری زندگی کی محنت کی ضرورت ہے آنکھیں کھول کر تجربے کی ضرورت ہے۔ اس مضمون میں ڈوب کر آپ خود کچھ حاصل کریں۔ آنکھیں کھول کر گردو پیش کو دیکھیں اور پھر کچھ لذتیں حاصل کرنا شروع کریں۔ پھر آپ کو سمجھ آئے گی کہ ذکر ہوتا کیا ہے اور ذکر پھر آپ کو خود بڑی قوت سے اپنی طرف کھینچ لے گا اور ذکر کے بغیر جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے دنیا کے گھاٹے فائدوں میں تبدیل نہیں ہو سکتے۔ آپ جو چاہیں کر لیں ، جو چاہے تعلیم دے دیں، جس قسم کا چاہیں نظام دنیا میں نافذ کر لیں ، عدل بھی قائم کر لیں تب بھی دنیا کو جنت نصیب نہیں ہو سکتی جب تک اللہ کے ذکر کا سلیقہ اور شعور حاصل نہ ہو جائے اور اللہ کے ذکر سے لذت حاصل کرنا دنیا نہ سیکھ لے ورنہ تو وہی بات ہے کہ گدھے کی لاش پر بیٹھے ہم نے زندگیاں بسر کر دیں۔ بخاری کتاب الدعوات میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ” ذکر الہی کرنے والے اور ذکر الہی نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ کی طرح ہے ، یعنی جو ذکر الہی کرتا ہے وہ زندہ ہے اور جونہیں کرتا وہ مردہ ہے۔ ( بخاری کتاب الدعوات حدیث نمبر : 5928) مسلم کی روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا وہ گھر جن میں خدا تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے اور وہ گھر جن میں خدا تعالیٰ کا ذکر نہیں ہوتا ان کی مثال زندہ اور مردہ کی طرح ہے۔“‘ ذکر سے زندگی ملتی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کو جو زندگی عطا ہوئی ہے یہ دراصل ایک روحانی زندگی حاصل کرنے کی خاطر ہے۔ اس کا ذریعہ ہے اور اگر دوسری زندگی عطا نہ ہو تو بظاہر زندہ ہوتے ہوئے بھی انسان مردہ ہے۔ قرآن کریم جس خلق آخر کا ذکر کرتا ہے یہ وہی روحانی خلق آخر ہے جس سے ایک نئی زندگی