خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 342 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 342

خطبات طاہر جلد 13 342 خطبه جمعه فرموده 6 مئی 1994ء دل ہمارے ساتھ ہیں گومنہ کریں بک بک ہزار کہ دل ہمارے ساتھ ہیں اگر منہ ہزار بک بک کریں دل ان کے جانتے ہیں کہ یہ اچھوں کی جماعت ہے اسے اچھا ہونا چاہئے اس سے اچھی توقعات وابستہ ہوتی ہیں۔ پس آپ مجھے کیوں طعنے دلواتے ہیں خواہ مخواہ بیٹھے بٹھائے اور جب غیروں کی طرف سے آواز آتی ہے تو مجھے اور بھی زیادہ اس بات کی تکلیف پہنچتی ہے کہ اپنوں نے کیوں مجھے بر وقت اس بات میں متنبہ نہیں کیا میں فوری طور پر جواب طلبی کرتا ہوں امور عامہ کی ، دوسروں کی ، کہ عجیب بات ہے اول تو یہ بتائیں کہ بات سچی ہے کہ نہیں اگر یہ سچی ہے تو آپ کو پہلے دکھائی دینی چاہئے تھی آپ کی طرف سے میں دیکھتا یہ آپ نے کیوں انتظار کیا کہ غیر اٹھے اور مجھے طعنے دے اگر چہ اس طعنے کی اپنی ذات میں کوئی حقیقت ہو یا نہ ہو مگر یہ ایک زیادہ تکلیف دہ صورت بن جاتی ہے۔ پس اپنی معاشرتی برائیوں پر ، اخلاقی برائیوں پر ، مذہبی برائیوں پر ہلکی قانون کو توڑنے کے لحاظ سے جو خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں ان سب پر نظر رکھیں اور اس پہلو سے اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق عطا فرمائے کہ احمدیت کو کوئی جائز طعنہ نہ مل سکے۔ جب آپ غیر احمدی مسلمانوں کی بات کرتے ہیں تو وہ تو طعنہ صرف اس وقت دیتے ہیں۔ میں نے جب تحقیق کی ہے جب ان کو کوئی مفاد وابستہ ہو اور ان کو کسی احمدی سے کچھ نقصان پہنچا ہو یا پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ مگر جو دوسری قومیں ہیں مثلاً جرمن ۔ وہ جب لکھتے ہیں تو وہ اسلامی نقطہ نگاہ سے لکھتے ہیں ہمیشہ ان کا موضوع یہ ہوتا ہے کہ ہم تو آپ کی جماعت کو اچھا سمجھ رہے تھے مگر ہم نے وہاں یہ یہ برائیاں دیکھیں اور اس کا براہ راست نقصان اسلام کو پہنچتا ہے اس لئے ان باتوں کو چھوٹا نہ سمجھیں اور ہر طرف ہر احمدی نگران ہوا اور خصوصیت سے اصلاحی کمیٹیاں ان باتوں پر غور اور فکر کریں اور مستقل ان بیماریوں کو جڑ سے اکھیڑنے کے لئے کوشش کرتی رہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ لَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ تم ایک دوسرے پر طعن نہ کیا کرو۔ اَنْفُسَكُمْ اپنے آپ کو طعنے نہ دیا کرو۔ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ اور مختلف تمسخر والے نام یا تحقیر والے نام نہ رکھا کرو۔ بعض قوموں میں نام رکھنے کی عادت ہے اور اس لحاظ سے بھی دنیا کی تمام قوموں میں ہندوستانیوں کو برتری حاصل ہے اس میں کوئی دنیا کی قوم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی وہ تو فورا کوئی بات ہو تو نام رکھ دیتے ہیں اور اکثر نام بگاڑے جاتے