خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 329
خطبات طاہر جلد 13 329 خطبہ جمعہ فرموده 6 رمئی 1994ء میں مسائل پیدا ہوتے ہیں ان پر روشنی ڈالنے کے لئے اور ان کا حل آپ کے سامنے رکھنے کے لئے میں نے ان آیات کی تلاوت کی ہے جو سورۃ الحجرات سے آیات ۱۲ اور ۱۳ سے لی گئی تھیں۔ضمنا یہ بھی بتا دوں کہ اس وقت جو مجلس شوریٰ جرمنی میں ہو رہی ہے اس میں تمام Nationalities کے لوگ بطور نمائندہ شامل ہیں۔جرمن، پاکستانی ، بوز نین ، ترک ،عرب، بنگالی اور متعدد افریقن ممالک کے نمائندگان با قاعدہ بحیثیت نمائندہ شامل ہیں۔میں نہیں جانتا کہ انہوں نے مشرقی یورپ کی بعض اور قوموں کو بھی شامل کیا ہے کہ نہیں مگر البانین بھی وہاں سینکڑوں کی تعداد میں اب خدا کے فضل سے جماعت میں داخل ہو چکے ہیں اس لئے بعید نہیں کہ البانین نمائندے بھی ان میں ہوں اور اگر نہیں تو اب ان کو شامل کر لینا چاہئے۔اسی طرح رومانیہ میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت جرمنی کو تو فیق ملی ہے کہ مستقل بنیادوں پر وہاں جماعت کا قیام کر لے۔رومانین احمدی بھی جرمنی میں موجود ہیں۔کوشش کرنی چاہئے کہ مجلس شوری میں زیادہ سے زیادہ اقوام کی نمائندگی ہو اور یہ ان کی تربیت کے لئے ایک بہترین موقع ہے۔پس پہلی نصیحت تو یہی ہے کہ مجلس شوری کا دائرہ قوموں کے لحاظ سے بڑھائیں اور وسیع تر کریں اور مجلس شوری میں ان کو اسلامی طرز مشاورت کا سلیقہ عطا کریں ان کو وہ اسلوب سکھائیں کہ اسلام کے نقطہ نگاہ سے مشورہ کسے کہا جاتا ہے اور کن شرائط کے ساتھ مشورہ دینا چاہئے اور کن شرائط کے ساتھ ان آداب کی پابندی کرنی چاہئے جو اسلامی آداب ہیں اور مشورہ قبول کس طرح ہوتا ہے اس سلسلے میں بھی اسلام مجلس شوری کے موضوع پر ہر پہلو سے روشنی ڈالتا ہے یعنی اس کا ہر انداز دوسری دنیا کی قوموں کے انداز سے مختلف ہے قبول کرنے کا انداز بھی مختلف ہے۔بس اس پہلو سے ان قوموں کو مجلس شوری کی اہمیت اور اس کے اسلامی آداب سکھانے کا یہ ایک بہترین موقع ہے۔مگر غالبا امیر صاحب کے پیشِ نظر کچھ روز مرہ کے تربیتی مسائل ہیں جو مختلف سمتوں سے اٹھتے ہیں اور امیر صاحب کو تنگ کرتے رہتے ہیں اس لئے میں ان امور کی روشنی میں جو مجھ تک خطوں کے ذریعے پہنچتے ہیں بعض نصیحتیں کرنی چاہتا ہوں اور مجلس شوری کے نمائندگان کو چاہئے کہ ان کو خوب اچھی طرح ذہن نشین کر کے اپنے قلب میں جگہ دے کر، وہاں بٹھا کر پھر واپس اپنی اپنی جگہوں کو لوٹیں اور وہاں جا کر ان امور میں تربیت کی کوشش کریں۔پہلی بات تو قرآن کریم کی ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمائی ہے۔