خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 324 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 324

خطبات طاہر جلد 13 324 خطبہ جمعہ فرموده 29 اپریل 1994ء ان سب بد کرداروں کو جنہوں نے یہ ظلم کیا ہے اور ظلم کمایا ہے ان کوعبرتناک سزائیں ملنی چاہئیں تا کہ آئندہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی جرات نہ پڑے۔کجا یہ کہ وہ یہ فیصلے کرے کہ سچا ہے یا جھوٹا ہے۔یہ اختیار ہی ان کو نہیں ہے اور امر بالمعروف کے متعلق مسلسل آواز بلند ہونی چاہئے کہ یہ مطلب نہیں ہے جو تمہیں ملاں سمجھا رہا ہے۔مسلسل جھوٹ بول رہا ہے۔امر بالمعروف کا وہ مطلب ہے جو محمد رسول اللہ نے قرآن سے خود سمجھا اور زندگی بھر اس پر عمل کر کے دکھایا۔ایک دفعہ ایک عرب متشدد دوست تھے مرا کو کے۔وہ مجھ سے گفتگو کر رہے تھے تو مجھے کہنے لگے کہ دیکھیں ہم لوگ جو ہیں ایک غیر اسلامی حکومت کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔وہ بھی مسلمانوں کی مراکن کی حکومت ہے۔میں نے کہا کس طرح کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا وہ تو عورتوں کے چہرے سے پردے اترے ہوئے بھی ہوں تو کوئی کارروائی نہیں کرتے یعنی زبر دستی چہروں پر دوبارہ پر دے نہیں ڈالتے۔اب ہمارا اتنا رعب ہے کہ کوئی عورت اگر اس طرح نکلے تو چاہے اپنے خاوند کے ساتھ ہی ہو ہم زبردستی اس کو گھسیٹ کے بازاروں میں لے جاتے ہیں اور اس کو سزا دیتے ہیں اور مجبور کرتے ہیں کہ اگر وہ پردہ نہیں کرے گی تو ہم اس کے ساتھ یہ کریں گے۔جب وہ بات کر بیٹھا تو میں نے کہا اس امر بالمعروف اور صلى الله نهي عن المنکر کا تم چودہ سو سال پہلے بھی کوئی نشان پاتے ہو۔اس کا کوئی ذکر محمد رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے بھی ملتا ہے۔کبھی آنحضرت ﷺ نے ایسا کر کے دکھایا ہو، کسی ایک عورت پر کسی مسلمان کو اجازت ملی ہو کہ اس کی بے پردگی یا اس کی اور کمزوری کے نتیجے میں اس کو ہاتھ اٹھانے کی یا بے عزتی کرنے کی خدا تعالیٰ کی طرف سے رخصت ملی ہو، کوئی اشارہ ملتا ہے؟ سوچتا رہا ، سوچتارہا، کہا نہیں میرے علم میں کوئی نہیں۔تو میں نے کہا اگر نور کے زمانے میں اس کا کوئی نشان نہیں ہے تو پھر یہ اندھیروں کی پیداوار ہے، اس کا محمد رسول اللہ ﷺ سےکوئی تعلق نہیں۔جس کو تم امر بالمعروف اور نهي عن المنکر سمجھ رہے ہو یہ بے غیرتی ہے اور بے حیائی ہے، اس سے بڑھ کر بے حیائی ہے۔ایک عورت اپنے خاوند کے ساتھ چل رہی ہے اس کا ایک احترام ہے، اس کی ایک عزت ہے، تمہیں کس نے حق دیا ہے کہ اس عورت کے اوپر زبردستی کرو۔اس نے جو بے پردگی کی ہے اتنا معمولی جرم ہے اس جرم کے مقابل پر کہ اگر مقابلہ کیا جائے تو اس کی تو کوئی بھی حیثیت نہیں۔وہ جرم بھی تب بنتا ہے اگر تمہاری آنکھیں بے حیا ہوں۔اگر دیکھنے والوں کی آنکھیں حیا دار ہوں تو وہ جرم بھی کوئی جرم