خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 323
خطبات طاہر جلد 13 323 خطبه جمعه فرموده 29 را پریل 1994ء ہو رہی ہے وہ دور کر کے دکھا دے، گوجرانوالہ کی عدالتوں میں بچے گواہ پیش کر دیں۔کوشش تو کریں، سارے گوجرانوالہ کے مولوی اور اردگرد کے اکٹھے ہو جائیں، گوجرانوالہ کی ایک گلی کو بھی مسلمان بنانے کی استطاعت نہیں رکھتے کیونکہ یہ خدا کا کام ہے جو امام اس نے بھیجا اس کے تو منکر ہو بیٹھے ہواب تمہاری باتوں میں طاقت نہیں ہے۔طاقت وہاں ہے جہاں سے آج میں بول رہا ہوں محمد مصطفیٰ کے غلاموں میں طاقت ہے۔مسیح موعود کے منصب خلافت میں طاقت ہے۔آج میں ایک آواز بلند کرتا ہوں زمین کے کناروں تک لبیک لبیک کی آوازیں آتی ہیں۔ایک بدی دور کرنے کی نصیحت کرتا ہوں، بے اختیار دل اچھلتے ہیں، کہتے ہیں ہاں ہم حاضر ہیں، ہم ان سب بدیوں کو کاٹ پھینکیں گے، ایک نیکی کی طرف بلاتا ہوں، اس سے بڑھ کر نیکیوں کے لئے وعدے آتے ہیں اور پھر لوگ ان پر عمل کر کے دکھاتے ہیں۔یہ صرف اس لئے ہے کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کو زمانے کا امام بنایا گیا ہے اور وہی امامت طاقتور ہے جو آپ کی غلامی کی امامت ہے اس سے ہٹ کر کوئی امامت امامت نہیں ہے۔تم ظلموں کی طرف بلالو، دیکھو کس طرح لوگ تمہاری آواز پر لبیک کہتے ہیں، تم سنگسار کرنے کے لئے لوگوں کو آواز دو، جھولیوں میں پتھر ڈال کر دوڑیں گے اور معصوم ہوں یا گنہگار ہوں ہر ایک پر وہ پتھر پڑیں گے اور اکثر معصوموں پر پڑیں گے۔لیکن ظلم سے روکنے کی کوشش کر کے دیکھو کبھی ظلم سے روک نہیں سکتے۔امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کی طاقت محمد رسول اللہ کو عطا ہوئی ہے تمہیں نہیں ہوئی اور یہی میں جماعت کو سمجھانا چاہتا ہوں جب تک وہ امر بالمعروف کریں گے جو محمد رسول اللہ ﷺ کا امر بالمعروف ہے آپ کو آسمان سے طاقت نصیب رہے گی آپ کی باتوں میں عظمت پیدا ہوگی ، وقار پیدا ہوگا، لوگوں کے دل ان کو ماننے کے لئے جھکیں گے اور اگر وہی نھی عن المنکر آپ نے کرنی ہے اور وہی کرنی ہوگی اور اس انداز سے کرنی ہے جس انداز سے محمد رسول لہ ﷺ نے کی اور وہی کرنی ہوگی تو پھر دیکھیں کس طرح آپ کے روکنے سے لوگ رکھتے ہیں اور یہی اس وقت جماعت میں ہو رہا ہے۔پس آنحضرت میہ کی نصیحتوں کی گہرائی میں اتریں اور قرآن کے حوالوں سے ان نصیحتوں کو سمجھیں اور ان کے مطابق عمل کریں تو خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو طاقت نصیب ہوگی کسی دنیا کے ہتھیار کی ضرورت نہیں کسی حکومت کی تائید کی ضرورت نہیں ہے۔پس اہل پاکستان میری آواز کوسن رہے ہوں گے وہ اپنے طور پر اپنی حکومت کو پہنچا ئیں اور صلى الله