خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 322 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 322

خطبات طاہر جلد 13 322 خطبه جمعه فرموده 29 راپریل 1994ء کام نہیں ہے۔اب یہ واقعہ جو وہاں رونما ہوا ہے اس وقت اخباروں نے اچھالا اور ایک اخبار بھی ایسا صلى الله نہیں تھا جس نے اس کی مذمت کی ہو اور کہا ہو کہ محمد رسول اللہ ﷺ پر یہ نا پاک داغ لگایا جارہا ہے ہم اسے برداشت نہیں کریں گے، یہ جھوٹی نصیحتیں ہیں۔کسی نے آواز نہیں اٹھائی اور اب جبکہ حق ظاہر ہو گیا تب بھی سب دنیا خاموش ہے۔کہاں ہے حکومت پاکستان کا انصاف۔ان سب علماء کو جنہوں نے مسجدوں کے لاؤڈ سپیکروں سے وہ جاہلانہ اور غضب ناک اعلان کئے تھے جس کے نتیجے میں ایک معصوم کی جان اس طرح لی گئی اور بڑے دردناک طریقے پر لی گئی ، اگر پاکستان کی حکومت میں ذرہ بھی انصاف ہو تو اب ان کو پکڑے۔اول تو پہلے ہی پکڑنے کی ضرورت تھی اگر قانون کے محافظ اپنے قانون کے ساتھ لوگوں کو کھیلنے دیتے ہیں تو قانون کا وقار پھر باقی نہیں رہا کرتا۔ایسے ملک میں پھر آئندہ امن کی کوئی ضمانت نہیں ہو سکتی۔وہ بھی وقت تھا کہ حکومت پاکستان دخل دیتی اور سختی سے اس رو کو دباتی کہ قرآن کو جلایا یا نہ جلایا یہ حکومت کا کام ہے، ہم فیصلہ کریں گے۔عدالتوں کا کام ہے، حکومت کا کام ہے ان فیصلوں کو نافذ کرے۔جس نے اپنے ہاتھ میں قانون لیا ہے وہ مجرم ہے اس سے وہی سلوک کیا جائے گا جو اس نے کسی دوسرے سے کیا ہے۔اس وقت وہ وقت تھا لیکن اگر وہ وقت ہاتھ سے گزر گیا تو اب کیوں زبانیں گنگ ہو گئی ہیں۔اب اس معصوم کا خون پکار رہا ہے اور کوئی آواز نہیں ہے جو اس کے حق میں اٹھ رہی ہو۔اس لئے جماعت احمدیہ کو امر بالمعروف کی حد میں رہنا ہے اور اس سلیقے کے ساتھ رہنا ہے جس سلیقے کے ساتھ قرآن اور محمد رسول اللہ نے ہمیں سکھایا ہے اور اس میں ایک یہ بھی جو اس وقت آپ کے سامنے میں نمونہ دکھا رہا ہوں کہ ہم ہر بدی کے خلاف ضرور آواز اٹھاتے رہیں گے اور ساری جماعت کا کام ہے ہر جگہ یہ آواز اٹھائے اور اب جبکہ واقعہ ظاہر ہو چکا ہے تمام دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑے اور کہے کہ دیکھو اس طرح ظلم ہوا کرتے ہیں اگر جاہل ملاؤں کے ہاتھ میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی باتوں کی تفسیر پکڑا دی جائے ان کو اپنی گفتگو کا سلیقہ نہیں، انہیں رہنے کے انداز نہیں آتے ، ان کی باتوں سے غضب جھلکتا ہے، بات بات پر منہ سے جھا گیں نکلتی ہیں، انہوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کی سنت سکھانی ہے تمہیں؟ آپ نہیں سیکھ سکے اور جہالت دیکھیں عوام کی کہ یہی ملاں نسلاً بعد نسل بولتا بولتا اپنے گلے بٹھا دے اور جانیں دے بیٹھے کہ آؤ نیکی کی طرف آؤ تو نیکی کی طرف کوئی نہیں آئے گا۔گوجرانوالہ سے رشوت دور کر کے دکھا دو، گوجرانوالہ میں جو حق تلفی