خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 321
خطبات طاہر جلد 13 321 خطبہ جمعہ فرموده 29 را پریل 1994ء الله طرف سے کوئی اشارہ نہیں ملتا۔صحابہ کا تو یہ حال تھا کہ ایسی حالت میں بھی کہ جب یقین سمجھتے تھے کہ فلاں شخص کی یہ غلطی ہے اور ہمیں حق ہے، قرآن کی طرف سے حق ہے کہ ہم اسے قتل کر دیں، محمد رسول اللہ ﷺ سے پوچھے بغیر فیصلہ نہیں کرتے تھے۔کامل قانون کی حکمرانی تھی اور آنحضرت نے کبھی اشارہ بھی نھی عن المنکر کے یہ معنی عملا ظاہر نہیں فرمائے کہ زبردستی لوگوں کو ہٹاتے پھرو۔اب قرآن آنحضرت ﷺ کے قلب مطہر پر نازل ہوا ہے، آپ کی ذات مجسم قرآن بن گئی۔ایک موقع پر صبح نماز کے وقت تھوڑے آدمی تھے تو آپ نے فرمایا کہ مجھے اتنی تکلیف ہوتی ہے یہ دیکھ کر کہ لوگ نمازوں کی طرف تو نہیں آتے اور بکری کے دو پائے اگر پکا کر ان کی طرف بلایا جائے تو دوڑے چلے آتے ہیں کہ اگر یہ جائز ہوتا تو میں ان گھروں کو جلوا دیتا۔اب یہ جو ہے نعوذ بالله من ذلک کسی مغلوب الغضب انسان کا کلام نہیں ہے۔آپ جانتے تھے کہ وہ لوگ جو محمد رسول اللہ سے سبق سیکھنے کے باوجود، نمازوں کی اہمیت کو سمجھنے کے باوجود، نمازوں سے غافل ہیں ان کا 66 صلہ جہنم ہے۔تو اس بڑی آگ سے بچانے کے لئے دل میں یہ خیال آ سکتا ہے کہ یہ کروں تو باقی لوگوں کو نصیحت ہو جائے۔مگر کیوں رکے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی اجازت نہیں دی تھی۔فرماتا ہے اِنَّمَا أَنْتَ مُذَكَّرَةٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَّيْطِرِ (الغاشية: 22 تا23) تجھے ہم نے مذکر بنا کے بھیجا ہے۔مصیطر بنا کے نہیں بھیجا اور یہ ایسے جاہل لوگ ہیں کہ قرآن کریم کی اس روشن وضاحت کے باوجود کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کیا دائرہ ہے پھر بھی زبر دستی اس کی طرف ایسی خوف ناک اور ملحدانہ باتیں منسوب کرتے ہیں۔قرآن کہتا ہے إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكَّر اور مذکر کی تشریح قرآن بار بار یہ فرمارہا ہے کہ نھی عن المنكر كر وامر بالمعروف کرو لیکن تذكير کے دائرے میں رہ کر نصیحت کے دائرے میں رہ کر۔اپنے ہاتھ میں قوت لے کر یا قوت کا سہارا لے کر خواہ تمہارے ہاتھ کی ہو یا اور جگہ سے حاصل کرو، تمہیں اخلاقی تبدیلیاں پیدا کرنے کوئی حق نہیں ہے۔مصیطر نہیں ہے۔اے محمد ! تو مصیطر نہیں ہے ، داروغہ نہیں ہے جس نے زبردستی تبدیلیاں پیدا کرنی ہیں۔اگر سنیں گے تو ان کا فائدہ ہے۔نہیں سنیں گے تو پھر اللہ کے سپرد ہے۔إِلَّا مَنْ تَوَلَّى وَكَفَرَ فَيُعَذِّبُهُ اللهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَرَ ( الغاشیہ: 24 تا25) جو توتی کرے گا اور انکار کرے گا، اللہ کا کام ہے اسے عذاب اکبر میں مبتلا کرے، تمہارا