خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 318
خطبات طاہر جلد 13 318 خطبه جمعه فرموده 29 اپریل 1994ء کرتی ہے۔خواہ کتنی ہی بلندیوں پر آپ کا قدم ہو آخر گرنا پڑتا ہے لیکن گرنے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی جبری فیصلہ نہیں ہے۔جب قوم اپنے حالات بدلتی ہے، اِنَّ اللهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ جب تک قوم اپنے حالات نہ بدلے، خدا تعالیٰ کبھی کبھی ان کے تنزل کی تقدیر جاری نہیں فرماتا۔پس ایک پہلو سے یہ تقدیر ہے ایک پہلو سے تدبیر ہے اور تدبیر اور تقدیر کا یہ رشتہ مکمل ہو جاتا ہے۔اگر آپ تقدیر خیر کے خواہاں ہیں تو عمل خیر کی حفاظت کریں۔اپنی سوچوں کو خیر کی سوچیں بنائیں ، اپنی تمام تدبیروں کو خیر کی تدبیر بنا ئیں اور پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی سوچوں اور آپ کی تدبیروں کو، جو عارضی اور فانی ہیں، ان کو تقدیر کے ذریعے لافانی کر دے گا۔عزت آسمان سے اترے گی آپ کی کوششوں سے نصیب نہیں ہو سکتی مگر خدا کا یہ وعدہ پھر ضرور آپ کے حق میں پورا ہوگا کہ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ تم میں سے سب سے معزز وہی ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ اختیار کرنے والا ہے۔پس اپنے تقویٰ کی اپنی ذات میں حفاظت کرنا، اپنے خاندان میں حفاظت کرنا اپنی آئندہ نسلوں میں حفاظت کرنا، ایسی گہری سوچوں کے ساتھ حفاظت کرنا کہ آئندہ جاری وساری رہے، نسلاً بعد نسل جاری رہے یہ وہ ہمارا اہم ترین فریضہ ہے جو ہمیں سونپا گیا ہے اور جماعت کے تیزی کے ساتھ پھیلاؤ کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ میری فکر انہیں باتوں پر مبذول ہے، انہی باتوں کے لئے وقف ہو چکی ہے کہ ہم ایک ایسی جماعت بن کر خدا کی نظر میں ابھریں کہ خدا کی تقدیر اس جماعت کو آج کے لئے نہیں، کل کے لئے ، پرسوں کے لئے نسلاً بعد نسل ، ہزاروں سال کے لئے معزز بنائے رکھے اور آنے والے اپنی عزتوں کے حوالے ہماری نسلوں کے بھی دیں کہ ان کی دعاؤں ، ان کی کوششوں سے، ان کا فیض تھا کہ خدا کے فضل اور اکرام کی تقدیر آسمان سے ہمارے لئے اتر رہی ہے۔اس پہلو سے اگر باتیں کرنی ہیں تو اس کی باتیں کرنی ہیں جو عند الله اتقی تھا یعنی حمد مصطفی ہے۔خدا کے نزدیک سب سے زیادہ متقی محمد رسول اللہ تھے اور خدا کے نزدیک سب سے زیادہ اکرام کے لائق حضرت محمد مصطفی علی ہیں۔پس تقویٰ کیا ہے اور اکرام کسے کہتے ہیں اور جس متقی کو خدا کی طرف سے اکرام نصیب ہوتا ہے اس کے اپنے روز مرہ کے دستور کیا ہوتے ہیں۔اس کا دوسروں کے ساتھ تعلقات کا دائرہ کس طرح پھیلتا ہے یا سکڑتا ہے ، کن لوگوں سے اس کے تعلق کٹتے ہیں کن سے اس کے تعلق استوار ہوتے اور