خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 316
خطبات طاہر جلد 13 316 خطبه جمعه فرموده 29 را پریل 1994ء کس طرح وہ ذلیل اور رسوا ہو گئیں۔وہی قومیں جن پر ان کو برتری حاصل ہوا کرتی تھی ، ان برتری والی قوموں کو خدا تعالیٰ نے ذلیل و رسوا اس حد تک ہونے دیا کہ وہ جو کل تک ذلیل تھے وہ ان پر حکومت کرنے لگے، وہ ان پر ایسے حاکم اور جابر بن کر سوار ہو گئے کہ بعض ایسے تاریخ کے دور آتے ہیں کہ وہ مجبور قو میں تصور بھی نہیں کر سکتیں کہ کبھی ان کے تسلط سے ہم آزاد ہو سکتے ہیں۔آج ہی کی دنیا دیکھ لیجئے آج سے کچھ سال پہلے روس کے متعلق یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا کہ وہ قو میں جو روس کے تسلط میں ہیں وہ اس سے آزادی کے کوئی خواب بھی دیکھ سکیں گی۔مگر خدا نے وہ طاقتیں توڑنے کا فیصلہ کیا تو چھوٹی چھوٹی قو میں جن کی کوئی حیثیت نہیں تھی ، جنہیں روس کی ایک بھبکی دبا کے مٹاسکتی تھی ، وہ سر اٹھانے لگیں اور انہوں نے اپنے لئے آزادی کے مطالبے شروع کر دیئے۔اب امریکہ کا رعب ہے اور قو میں امریکہ کو سجدے کر رہی ہیں لیکن نہیں جانتیں کہ یہ دور بھی ہمیشگی کا دور نہیں ہے۔وہ تنزل کے آثار امریکہ میں ظاہر ہو چکے ہیں جو چند اور سالوں میں نمایاں ہو جائیں گے اور پھر امریکہ کی وہ برتری اور فضلیت، گویا ایک ہی سپر پاور ہے، یہ باقی نہیں رہے گی۔وہ کمزور قو میں جو ایک طاقت کے وقتی طور پر غالب آنے کے نتیجے میں اپنی عزتوں کے سودے کر لیتی ہیں بہت ہی بے وقوف قو میں ہیں۔وہ اپنے ضمیر کے سودے کرتی ہیں اور ان سودوں کا فائدہ کوئی نہیں۔وقت بدل جاتے ہیں پھر کسی اور آقا کی تلاش کرنی پڑتی ہے، پھر اس کے حضور اپنے ضمیر بیچنے پڑتے ہیں۔اِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ اتَّقُكُمْ میں ان سارے مصائب کا علاج پیش فرما دیا گیا ہے۔خواہ تم قومی حیثیت سے زندہ ہو، خواہ تم انفرادی حیثیت سے زندہ ہو، اگر تم تقویٰ پر قائم رہو گے تو پھر تمہاری عزتیں اللہ سے وابستہ ہو جائیں گی۔عِنْدَ اللہ کا ایک مطلب ہے خدا کے نزدیک تم معزز ہو۔اب خدا تو کسی کے سامنے جھک کر اس کی عزت نہیں کرتا۔خدا کے حضور تم نے عزت کی سند حاصل کر لی ہے، یہ معنی ہے۔تم وہ حق رکھتے ہو کہ تمہاری عزت کی جائے اور جب خدا کے نزدیک کسی قوم کا یہ حق ہو جائے کہ اس کی عزت کی جائے تو اس کی عزتیں بڑھتی ہیں پھر کوئی دنیا کی طاقت اس کی عزتوں کو کم نہیں کر سکتی۔جب تک وہ خدا کے نزدیک معزز رہنے کا حق رکھتے ہیں وہ معزز بنائے جاتے ہیں خواہ وہ پہلے کیسے ہی ذلیل کیوں نہ ہوں اور جب وہ ایک دفعہ خدا سے تعلق جوڑ لیں تو اس کے بعد دوامکانات ہیں یا احتمالات بھی ہیں۔