خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 315
خطبات طاہر جلد 13 315 خطبه جمعه فرموده 29 اپریل 1994ء قرب یا چاند سے دوری زمین کی مختلف سطحوں پر ایک اثر دکھاتی ہے سطح سمندر پر اس کا قرب نمایاں ہوتا ہے اور وہ یعنی چاند سے زیادہ زور سے اپنی طرف کھینچتا ہے اور سمندر کی تہہ میں چاند کی طاقت کچھ کم ہو جاتی ہے مگر سورج کی طاقت برابر ہے اس سے ذرا بھی فرق نہیں دکھائی دیتا یعنی ایسا فرق جو روز مرہ کی انسانی اور حیوانی زندگی پر نمایاں ہو کر اثر انداز ہو سکے۔جہاں تک اللہ تعالیٰ کی ذات کا تعلق ہے اس کے سامنے تو سارے بندے، ہر طاقت، ہر کمزوری ایک ہی صف میں کھڑے ہیں اس لئے وہاں تو خدا کی نظر میں طاقت اور عزت کا کوئی جوڑ دکھائی نہیں دیتا۔وہاں ایک اور مضمون شروع ہوا ہے جس کی طرف قرآن کریم کی آیت اشارہ فرما رہی ہے کہ خدا کے سامنے نہ تمہاری دولتیں کام آئیں گی۔نہ تمہارے جتھے کام آئیں گے، نہ تمہاری سیاسی یا دوسری طاقتیں کام آئیں گی اور عزت پھر بھی تمہاری دلی تمنا ہے انسانی زندگی کا ایک حصہ بنا دی گئی ہے پھر کیسے خدا سے عزت پاؤ گے؟ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ انْقُكُمْ ہم تمہیں عزت کا رستہ بتاتے ہیں۔تم سب سے زیادہ متقی ہو جاؤ اور یہ وہ چیز ہے جو اس سے پہلے حیوانی زندگی میں کہیں دکھائی نہیں دیتی۔یہاں انسان حیوانی زندگی سے بالکل ممتاز ہو کر ابھرتا ہے۔تقویٰ کا وہ مضمون ہے جو انسانی ارتقاء کی آخری منزل سے شروع ہوتا ہے یعنی انسانی منزل سے اور پھر یہی وہ مضمون ہے جو خدا کی طرف آپ کے سفر میں مسلسل آپ کا ساتھ دیتا ہے۔اسی لئے قرآن کریم نے اسے یوں بھی بیان فرمایا خَيْرَ الزَّادِ التَّقوی سب سے اچھا زادراہ تقویٰ ہے۔تو پتا چلا کہ اس کی پہلے کی منازل جتنی بھی زندگی نے طے کیں انسان کے وجود تک اور انسان کی روز مرہ کی زندگی میں بھی ، ان میں زاد راہ کچھ اور ہوا کرتا تھا۔یہاں سے اگلا سفر جو بلندیوں کی طرف شروع ہونا ہے، جو خدا کی طرف ہے، اس کے متعلق ایک اور زادراہ بیان کر دیا جس کا پہلے کوئی تصور نہیں ہے۔فرمایا اِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى تقویٰ بہترین زاد ہے اس سے بہتر زا دسفر تمہیں نصیب نہیں ہوسکتا۔پس تقویٰ سیکھنا ہے کیونکہ تقویٰ کے بغیر ہم اللہ کی نظر میں کوئی عزت نہیں پاسکتے اور یہ دنیا کی عزتیں تو یہیں مرمٹ جائیں گی، ہمارے ساتھ مٹی ہو جائیں گی اور یہاں بھی ان کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔نہ قوموں کی عزتوں کی کوئی ضمانت ہے، نہ افراد کی عزتوں کی ضمانت ہے۔تاریخ پر نظر ڈال کے دیکھیں، تو میں دیکھیں کہاں سے اٹھیں اور کہاں تک جا پہنچیں اور پھر تنزل کی راہ اختیار کرتے کرتے