خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 309
خطبات طاہر جلد 13 309 خطبہ جمعہ فرمودہ 29 اپریل 1994ء جلنگی تبدیل ہوئے کہ جن ملکوں میں جماعت ان ملکوں کا حصہ نہ بن سکی وہاں سے ان کے پاؤں اس طرح پھر حکومتوں نے اکھیڑے ہیں کہ وہاں ٹھہر تے بن نہیں پڑ سکی۔چنانچہ باقی ایشیائیوں کی طرح پاکستان کے وہ احمدی جو بعض صورتوں میں کئی نسلوں سے افریقہ میں رہ رہے تھے (یعنی مشرقی افریقہ میں ) ان کو وہاں ٹھکانہ نہیں ملا، بہت سے ان میں سے اب مستلھم میں آ کے آباد ہو گئے ہیں۔اسی طرح باقی ایشیائیوں کا حال ہوا۔لیکن جہاں خدا کے فضل سے جماعت افریقن بن کر پہنچی ہے وہاں کیفیتیں ہی اور ہیں تو یہ میرے سامنے عذر پیش کیا جاتا رہا کہ جی یہاں تو یہی چل رہا ہے۔میں نے کہا یہ چل رہا ہے، مجھے منظور نہیں یہ تو توڑنا پڑے گا۔اٹھیں اور ان لوگوں میں داخل ہوں، ان کی جماعت بنیں۔جس ملک میں رہتے ہیں وہاں Foreigner بن کے بیٹھے ہوئے ہیں، اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔چنانچہ اللہ کے فضل سے لمبے عرصے تک ان کے پیچھے پڑ کر ، آہستہ آہستہ انفرادی طور پر بھی توجہ دلائی گئی ، خدا کے فضل سے اب جماعت بیدار ہوگئی ہے۔اب بیسیوں کی بجائے ہزاروں میں بیعتیں آنی شروع ہو گئی ہیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ اب ان کا قدم بھی مغربی افریقہ کی طرح تیز رفتاری سے آگے بڑھے گا اور آئندہ چند سال میں لاکھ سے اوپر بھی انشاء اللہ تعالیٰ یہ بیعتیں پیش کر سکیں گے۔تو اللہ تعالیٰ ان کو بھی اس بیداری کے نیک عمل کی بہترین جزا دے اور بیداری جاری رہے ، بڑھتی رہے اور زیادہ پھل عطا کرتی رہے۔(آمین) یہی باتیں مشرقی افریقہ کے دوسرے ممالک پر بھی اطلاق پاتی ہیں یوگنڈا بھی اور تنزانیہ بھی، یہ بھی اس معاملے میں اپنے سے مجھے مخاطب سمجھیں۔شوری کے سلسلے میں ایک اقتباس مجھے کسی نے بھجوایا تھا حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کا۔تفسیر میں شوریٰ کا ذکر فرمایا ہے تو میں نے پرائیویٹ سیکرٹری سے کہا تھا کہ یہ رکھ چھوڑیں۔جب کبھی شوری کا تذکرہ آئے گا تو وہاں پڑھ کے سنائیں گے۔اچھا دلچسپ اقتباس ہے اور انہی باتوں کو تقویت ملتی ہے جو میں آپ کے سامنے پچھلی دفعہ عرض کر چکا ہوں۔حضرت مصلح موعود شورۃ الماعون کی تفسیر میں فرماتے ہیں: میں نے احمد یہ جماعت کی مجلس شوریٰ میں دیکھا ہے اور میرا ہیں بچھپیں سال کی مجالس شوری کا یہ تجربہ ہے کہ بسا اوقات کسی فیصلے کی پوری زنجیر اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک ایک عام آدمی کی رائے