خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 301
خطبات طاہر جلد 13 301 خطبہ جمعہ فرمودہ 22 اپریل 1994ء ایسی عظیم باتیں فرمادی ہیں کہ اگر آپ ان پر غور کر کے ، ڈوب کر دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ آپ کی ساری زندگی اس ایک کلمے پر عمل کرنے سے سنور سکتی ہے۔ فرمایا دیکھو تم بے شر ہو جاؤ یہاں تک کہ غیر گواہی دینے لگے، غیر کو معلوم ہو جائے کہ میری امت سے کسی کو کوئی نقصان نہیں ہے۔ میرے ماننے والوں سے وہ ہر لحاظ سے ، ہر پہلو سے امن میں ہے تو فرمایا تم مسلمان ہو۔ پھر فرمایا کہ اللہ کی نظر میں مسلمان ہونا ضروری ہے۔ ایک یہ پہلو تو خود ظاہر کر دیتا ہے کہ جس شخص کے متعلق یہ تاثر ہو کہ اس سے کوئی شہر نہیں پہنچ سکتا وہ مسلمان ہی ہوگا ، اللہ کی نظر میں بھی مسلمان ہونا چاہئے ۔ مگر اس میں ایک چھوٹا سا سقم ہے وہ یہ کہ بسا اوقات انسان دھوکہ دے کر لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ بے شر ہے اور اس پہلو سے انسان سب سے زیادہ خطرناک جانور ہے۔ اس لئے آنحضرت ا نے صرف یہ علامت بیان الله صلى الله کر کے فرض ادا نہیں فرمادیا ۔ آنحضرت ﷺ سے بڑھ کر انسانی نفسیات کا عالم خدا کے بعد اور کوئی نہ تھا، نہ ہو سکتا ہے۔ آپ ہر جگہ جہاں ایک علامت بیان فرماتے ہیں ان خطرات کو پیش نظر رکھتے ہوئے جو اس کے غلط استعمال سے غلط نتیجے پیدا کر سکتے ہیں کوئی نہ کوئی ایسا آپ Safety valve بھی مقرر فرما دیتے ہیں جس کے ہوتے ہوئے اس کا غلط نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا۔ پس بظاہر ایک آدمی کہہ سکتا تھا کہ یہی تعریف کافی ہے۔ جس شخص کا دل شرارت سے پاک ہو چکا ہو وہی ہے جس کی نیت ، جس کے اعمال بھی شرارت سے پاک ہوتے ہیں ۔ آپ نے خود یہ بھی ہمیں سمجھا دیا ہے تو پھر یہ خدا کے نزدیک بھی مسلمان ہی کہلانا چاہئے ، الگ تعریف کی کیا ضرورت ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جہاں تک بنی نوع انسان کے دیکھنے کا تعلق ہے بسا اوقات ان کو یہی پیغام ملتا ہے کہ یہ شخص بڑا م ں بڑا محفوظ ہے اور یہ پیغام نہ اس کے لئے امن کا موجب ہے نہ اس شخص کے لئے جس کے متعلق یہ سوچ سوچی جاتی ہے۔ جانوروں سے انسان کا ایک نمایاں فرق اس بات میں یہ ہے کہ جانوروں میں بھی Camouflage پایا جاتا ہے، یہ درست ہے اور ہر سطح پر جانوروں کے حیرت انگیز کیموفلاج کے انتظام ملتے ہیں جو قدرت نے ان کو ودیعت فرمائے ہیں یعنی اوپر سے کچھ اور دکھائی دے رہے ہیں اندر سے کچھ اور ، لیکن یہ سب دفاعی ہیں۔ حملے میں دھو کہ نہیں ہے۔ حملے میں کیموفلاج نہیں ہے اگر جالا مکڑی نے تنا ہے تو وہ تنا ہوا جالا دکھائی دیتا ہے آگے کوئی اندھا بن جائے اس میں جا پھنسے تو اس کی