خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 300 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 300

خطبات طاہر جلد 13 300 خطبہ جمعہ فرموده 22 اپریل 1994ء ہے تو آپ سن کر حیران ہو جائیں گے کہ اس ایک نظر کے تجزیہ میں بعض دفعہ برقی روؤں کو لاکھوں میل کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے اور چھوٹے سے دماغ میں ، اس کثرت سے وہ آتی جاتی ہیں ایک کونے سے دوسرے کونے میں، دوسرے سے تیسرے کونے میں، جسم کی جو نسیں مختلف حصوں میں بعض کیفیتیں رکھتی ہیں ان کو بھی اکٹھا کرتی ہیں۔ماضی کی ساری چھان بین کرتی ہیں۔آپ کی اندرونی کیفیات کا مطالعہ کرتی ہیں، آپ کے تعلقات کا مطالعہ کرتی ہیں، ان تعلقات کے مطالعہ کے دوران ایسے شخص کا کوئی تصور موجود ہے کہ نہیں ، وہ اچھا ہے کہ برا ہے۔یہ ساری باتیں آن واحد میں ہو جاتی ہیں اور لاکھوں میل کا سفران برقی روؤں کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔تو رات بھر کے ہنگاموں میں آپ اندازہ کریں کہ کتنی بڑی مصروفیتیں ، کتنے بڑے بڑے سفر طے ہوتے ہوں گے اور اس کو جو Data feed کیا ہے وہ آپ کے Conscious mind نے کیا ہے ان نیتوں نے کیا ہے جن کی جگالی کرتے کرتے آپ سوئے تھے۔ان میں اگر بد تمنا ئیں تھیں جن کو حاصل کرنے میں آپ ناکام رہے یا کسی پکڑ سے بچنے کے لئے آپ نے جھوٹ کے منصوبے باندھے تھے یا آپ نے کسی کی لالچ کی تھی اور آپ کو وہ چیز ہاتھ نہیں آئی اس کو اخذ کرنے کے لئے آپ نے کچھ ترکیبیں سوچی ہیں تو وہ تو چند ہیں۔اس گہرے دماغ میں ڈوب کر جو آپ کی نظر سے غائب ہے یہ بہت بڑے بڑے منصوبے بن جاتے ہیں اور وہ پھر پختہ شکل میں آ کر بعض دفعہ خوابوں میں آپ کو دکھائی دیتے ہیں جن کی بعض دفعہ تعبیریں بھی آپ نہیں سمجھتے۔لیکن بسا اوقات آپ کی شخصیت کی ایک چھاپ آپ کی روح پر قائم کر دیتے ہیں اور اس طرح آپ کی ایک روح وجود میں آتی ہے۔وہ منصوبے اگر شر کا پہلو ر کھتے ہیں تو جو روح اس سے وجود میں آتی ہے وہ لوگوں کے لئے خیر کا موجب نہیں ہو سکتی اور اپنے لئے بھی وہ مرنے کے بعد شر کا ہی موجب ہوگی۔پس خدا تعالیٰ نے جو آپ کو زندگی دی ہے جو قومی عطا فرمائے ہیں ان کو تخفیف کی نظر سے نہ دیکھیں۔اتنا بڑا احسان ہے کہ اس کے تصور میں ڈوب کر اگر ساری زندگی بسر کریں تو اپنے دماغ کی ساکھ اور اس کی کارگزاریوں کے احسانات پر ہی غور کرنا شروع کریں تو آپ کی زندگی کیا، آپ کی نسلوں کی زندگیاں ختم ہو جائیں گی، آپ نہ پورا غور کر سکتے ہیں نہ پورا شکر کا حق ادا کر سکتے ہیں۔پس آنحضرت ﷺ نے ہمارے سامنے معرفتوں کے خزانے لٹا دیئے ہیں۔ایک ایک، دو دو کلمے میں ایسی