خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 299
خطبات طاہر جلد 13 299 خطبہ جمعہ فرمود و 22 اپریل 1994ء پہنچتی۔نہ یہ ڈاکے ڈالنے والے لوگ، نہ یہ رشوت خور نہ یہ دوسرے کے مال غصب کرنے والے، نہ چورا چکے، نہ قتل کرنے والے، نہ غریبوں اور یتیموں پر ظلم کرنے والے۔یہ شہرت ایک لمبے عرصے میں وہاں پرورش پائی ہے اور اس کا بعض لوگوں سے بعض دوسروں کے مقابل پر بہت زیادہ گہرا تعلق ہے۔لیکن اتفاق کہیں کہیں کچھ بد بھی پیدا ہو جاتے ہیں تو اس لئے میں نے جماعت غانا کو نصیحت کی تھی کہ نظر رکھیں اور زیادہ سے زیادہ احمدیوں کو یہ نیکی کمانے میں لگا دیں، جھونک دیں۔وہ سارے مل کر ایسے کام کریں کہ تمام غانا کا جو نیک تاثر ہے وہ مزید تقویت پائے اور ان کو یقین ہوتا چلا جائے کہ ہم نے جلد بازی میں کوئی رائے قائم نہیں کی تھی، یہ جماعت ہی مسلمانوں کی جماعت ہے، یعنی مسلم کی اس تعریف کے تابع ہے جو میں نے ابھی پڑھ کر سنائی اور جیسا کہ میں نے بیان کیا اس کا نیت سے تعلق ہے۔ہر روز کی دنیا میں، ہر روز اور ہر رات آپ کی تمنائیں اور آپ کی خواہشات آپ کے دماغوں میں اس طرح جگالی کرتی ہیں جس طرح ایک بھینس یا گائے چارہ کھانے کے بعد جگالی کیا کرتی ہے۔ہر انسان صبح کے وقت بھی جگالی کرتے ہوئے اٹھتا ہے اور رات کو بھی جگالی کرتے ہوئے سوتا ہے اور وہی اس کی جگالی ہے جو رات کو اس کی خواہیں بھی بنتی جاتی ہے یا اس کے اس نفس کے حصے میں ڈوب کر آئندہ اس کے کردار کی تشکیل کرتی ہے جو نفس کا حصہ اس کی نظر سے اوجھل ہے یعنی دماغ کا وہ حصہ جس میں بہت کچھ سوچا جا رہا ہے، بہت کچھ سکیمیں بنائی جا رہی ہیں، منصوبے بنائے جا رہے ہیں، چھان بین ہو رہی ہے، مختلف خیالات، مختلف تجارب کے آپس کے تعلقات کو دوبارہ مربوط کیا جا رہا ہے یا توڑا جا رہا ہے۔ہرلمحہ یہ دماغ جو آپ کی نظر سے اوجھل ہے یہ کام کر رہا ہے، کئی قسم کی نئی شکلوں میں آپ کے خیالات کو نئی ترتیب دیتا ہے، آپ کے تجارب کا مطالعہ کرتا ہے غرضیکہ بہت ہی غیر معمولی طور پر جس کو کہتے ہیں War footing۔یوں لگتا ہے کہ War footing پر دماغ میں منصوبے بنائے جارہے ہیں اور نئی ترتیبیں قائم کی جارہی ہیں اور اس کے لئے کتنا ہنگامہ ہو گا، کتنے لمبے سفر اختیار کرنے پڑتے ہیں خیالات کو اس کے متعلق آپ کو میں مثال کے طور پر بتاتا ہوں کہ سائنسدانوں نے جہاں دماغ کے تجزئیے کا مطالعہ کیا ہے کہ جب آپ ایک نظر ایک چیز کو دیکھتے ہیں تو اس کو پہچاننے کے وقت یا اس کے متعلق تاثر قائم کرنے کے وقت آپ کے اندر کتنی برقی روئیں دوڑی ہیں، کہاں کہاں پہنچی ہیں، کہاں کہاں سے واپس آئی ہیں، کن کن جگہ کی انہوں نے تلاش کی