خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 285
خطبات طاہر جلد 13 285 خطبہ جمعہ فرمودہ 15 اپریل 1994ء وو سلوک کو بالکل برداشت نہیں کرتا اور ایسار د عمل بعض دفعہ اللہ تعالیٰ دکھاتا ہے جیسے ایک ہتھنی کے بچے کو مار دیا گیا ہو تو ہتھن اس ظالم پر حملہ کرتی ہے اور اس کی لاش کو پھر مٹی میں رگید کر اس کے نشان مٹادیتی ہے روند روند کر۔تو اللہ کی غیرت کا بھی ایک سوال تھا اور قرآن کریم میں وَاسْتَغْفِرُ لَهُمُ “ کا مضمون اسی لئے بیان ہوا ہے خصوصیت سے، کہ اے محمد ! تو تو معاف کرے گا، ہم جانتے ہیں، لیکن پھر ان کے لئے بخشش بھی اللہ سے مانگنا کیونکہ ہوسکتا ہے بعض گستاخیاں ہوں اللہ معاف نہ کرے، تجھے ہی بخشش بھی مانگنی ہوگی اور جب تو یہ کرتا ہے تو ایسے لوگ پھر اس بات کا حق رکھتے ہیں تو ان سے مشورے کرے کیونکہ یہ لوگ تجھ سے محبت کریں گے، تیرے عاشق ہو چکے ہوں گے پھر یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ تجھے غلط مشورے دیں۔لیکن مشورہ ان سے کر فیصلہ تو نے کرنا ہے اور جب محبت کے یہ تعلق ہوں تو فیصلہ چاہے مشوروں کے خلاف ہو، کبھی اس کے نتیجے میں دوریاں پیدا نہیں ہوتیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے زمانے میں خصوصیت سے مجھے یاد ہے، ہمیں بچپن سے ہی آپ فرمایا کرتے تھے کہ مجلس شوری میں ضرور آتا ہے اور بڑے اہتمام سے ہم لوگ با قاعدہ مجلس شوریٰ میں شریک ہوتے تھے بطور زائر کے لیکن بہت سی ایسی اہم تربیت مجلس شوری میں ایسی ہو رہی ہوتی ہے جو نہ تقریروں میں نہ خطبوں میں نہ باہر کہیں ہوتی ہے وہ سارا ماحول ایک زندہ فعال حرکت رکھتا ہے جس میں جماعت ایک دوسرے کے ساتھ ایک تعامل کر رہی ہوتی ہے۔ایک دوسرے کے ساتھ تعلق اور اس کے نتیجے میں جو رد عمل پیدا ہورہے ہیں اس کی ایک ایسی زندہ مثال ہے جیسے دو کیمیکلز کو آپس میں ملائیں تو آپ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ اس کے اندر آواز اٹھتی ہے اور کیمیکل رد عمل پیدا ہوتے ہیں اور پھر اس سے ایک نئی چیز بنتی ہے۔تو مجلس شوری جماعت کے باہمی تعامل کا نام ہے اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت اچھی تربیت ہوتی ہے، تو مجھے یاد ہے ہمیشہ مجلس شوریٰ میں ہم دیکھا کرتے تھے کہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور یہی بعد میں سب کا رواج رہا اکثر معاملات میں مشوروں پر بہت غور کرتے ، ان کو سراہتے اور ان کی تائید میں فیصلے دیتے اور بعض دفعہ ان کے برخلاف فیصلے دیتے۔بعض دفعہ تکلیف بھی محسوس کرتے اور بعضوں کو سمجھاتے کہ تم نے یہ غلط کیا ہے، یہ مشورہ دینا ہی نہیں چاہئے تھا، یہ نادانی ہے، یہ نا مجھی ہے۔لیکن کبھی ایک بھی واقعہ ایسا نہیں ہوا کہ جس کے نتیجے میں جماعت کے دل میں کوئی منفی رد عمل پیدا ہوا ہو بلکہ وہ واقعات، وہ مواقع جن میں خلیفہ وقت