خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 284 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 284

خطبات طاہر جلد 13 284 خطبہ جمعہ فرمودہ 15 اپریل 1994ء محمد رسول اللہ ﷺ نے کیا۔دین کی غیرت کی راہ میں عفو کو کبھی حائل نہیں ہونے دیا۔اپنی تکلیف بہت اٹھائی، بہت دکھ اٹھائے ، مگر جہاں تک ہم نے مطالعہ کیا ہے، محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنی ذات کی تکلیف کا بدلہ کسی سے نہیں لیا، اس کو عفو کہتے ہیں اور اس عفو کے نتیجے میں پھر استغفار پیدا ہونا ایک لازمی بات ہے۔وجہ یہ ہے کہ جب آپ عفو کرتے ہیں تو یہ بھی تو خیال آتا ہے کہ اس شخص نے خدا کو بھی تو ناراض کر لیا ہو گا۔اب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو ناراض کرنا دو پہلو رکھتا تھا ایک یہ پہلو کہ آپ نے اس کو برداشت کر لیا اور اس کے نتیجے میں اس کو معاف فرما دیا۔ایک اور پہلو تھا کہ خدا بھی تو ناراض ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان خود معافی میں مستعد ہوتا ہے یعنی جلدی دکھاتا ہے اور صلى الله کہتا ہے میں بالکل کسی قسم کا بدلہ نہیں لینا چاہتا مگر اللہ تعالیٰ معاف نہیں کرتا اور حضرت محمد رسول اللہ ہے کے تعلق میں ایسا بار ہا ہوتا تھا کیونکہ آپ آپنی ذات کا جرم معاف کرنے میں بالکل بے پرواہ ہوتے تھے مگر جس کو کسی سے پیار ہو اس کے خلاف وہ جرم برداشت نہیں کرتا۔یہ ویسی ہی مثال ہے جیسے میں نے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا واقعہ آپ کے سامنے سنایا تھا کہ آپ کو ایک شخص گالیاں دے رہا تھا اور نہایت سخت کلامی کر رہا تھا۔مہمان باہر سے آیا ہے اور آتے ہی اس نے دندناتے ہوئے مسجد میں آپ کے خلاف باتیں کرنی شروع کر دیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خاموش بیٹھے سنتے رہے۔ایک صحابی سے برداشت نہیں ہوا انہوں نے آگے سے کوئی سختی سے جواب دیا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے روک دیا کہ ایسا نہیں کرنا۔انہوں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مخاطب کر کے کہ آپ ہمارے امام ہیں ٹھیک ہے لیکن جب محمد رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دی جائیں آپ برداشت نہیں کر سکتے اور ہم سے کسی طرح توقع رکھتے ہیں کہ اپنے پیر کو گالیاں دیتے ہوئے سنیں اور ہم برداشت کر لیں۔تو میں یہ نہیں کہہ رہا کہ برداشت نہ کرو میں یہ سمجھا رہا ہوں کہ ایک فطرتی بات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ لکھتے ہیں کہ مجھے جتنے روزانہ گالیوں کے خط آتے ہیں اور جیسا جیسا گند بولا جاتا ہے، کہتے ہیں تم لوگ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ کیا کیا ہورہا ہے مجھے سے، لیکن میں برداشت کرتا ہوں اللہ کی خاطر اور کبھی پرواہ نہیں کی۔مگر جب پادریوں نے حضرت الله محمد رسول اللہ ﷺ کے خلاف بدزبانیاں کی ہیں تو دیکھیں جوابی حملے کیسے کیسے سخت کئے ہیں تو یہی اللہ تعالیٰ کا حال ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں بعض دفعہ اپنے ولی کی بے عزتی اور ولی کے ساتھ گستاخی کے