خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 283
خطبات طاہر جلد 13 283 خطبہ جمعہ فرمودہ 15 اپریل 1994ء تکلیف پر غیر معمولی عفو کا سلوک فرمایا ہے جو آپ کی ذات کو پہنچی تھی۔لیکن نظامِ جماعت پر جب ضرب پڑی ہے تو آپ نے عضو کا سلوک نہیں کیا کیونکہ وہ امانت ہے۔عفو کا ایسے جرم سے تعلق ہے جو آپ کے خلاف ہو اور جس میں آپ مالک ہوں چاہیں تو یہ سلوک کریں، چاہیں تو وہ سلوک کریں۔مگر جہاں آپ امین بن جاتے ہیں، امانت دار ہیں، اللہ تعالیٰ کی امانت آپ کے سپرد ہے وہاں نہ صرف یہ کہ عفو کے سلوک کی اجازت نہیں بلکہ قرآن کریم نے مومنوں کی اس تربیت کے پیش نظر ان کو متنبہ کیا ہے کہ جب خدا کے حکم کے تابع تم ایک آدمی کو سزا دے رہے ہو تو پھر یا درکھنا وہاں نرمی کرو گے تو تم گنہگار بن جاؤ گے تمہیں وہاں نرمی کا حق نہیں ہے۔پس قرآن کریم ایک کامل کتاب ہے، نہایت متوازن کتاب ہے، ہر تعلیم کو اس کے موقع اور محل پر بیان کرتی ہے اور موقع اور محل کی خوب نشان دہی کرتی ہے۔پس اس پہلو سے میں مجالس شوری کی روح کی حفاظت کی خاطر آپ کو سمجھا رہا ہوں کہ عفو کا سلوک عام کریں اور عفو زیادہ تر وہاں ہو جہاں اپنے آپ کو تکلیف پہنچی ہے اور اس تکلیف کو نظر انداز کرتے ہوئے خدا کی خاطر صبر کریں اور اپنے بھائی سے عفو کا سلوک فرما ئیں اس سے محبت بڑھے گی لیکن مصیبت یہ ہے کہ اکثر اوقات اپنی دفعہ تو لوگ یوں بھڑک اٹھتے ہیں جیسے کسی بھڑکیلے مادے کو تیلی دکھا دی گئی ہو اور نظام جماعت کی دفعہ آنکھیں بند۔منافق بیٹھے ہیں، باتیں کر رہے ہیں، آپ مزے سے ان کی باتیں سنتے ہیں، یا مزے نہ بھی لیتے ہوں تو اٹھ کر آ جاتے ہیں، کوئی فکر نہیں کہ کیا ہورہا ہے۔تو جہاں موقع اور حل نہ رہے وہاں بد زیبی آجاتی ہے، بدصورتی اس کا نام ہے۔ہر چیز جو با موقع ہو، برمحل ہو وہ خوبصورت ہے اور جو حل سے ہٹ جائے وہ بد زیبی ہے۔اب کتنا ہی خوب صورت ناک ہو کسی کا، یہاں کی بجائے ماتھے پر لگ جائے اور لوگ دور بھا گئیں گے اس سے، کوئی ایسا شخص، کوئی مرد ہے تو کوئی لڑکی سوچ بھی نہیں سکے گی کہ اس سے شادی کرے، سوچے تو ناک کٹوا کے ہی کرے گی۔مگر یہ بے عمل ہونے کا نتیجہ ہے اپنی ذات میں وہ ناک خوب صورت ہے۔آنکھ ایک ادھر ہو جائے اور ایک نیچے لگ جائے تو بہت بھیانک تصور پیدا ہوتا ہے حالانکہ دونوں آنکھیں اپنی ذات میں کیسی ہی خوبصورت ہوں تب بھی وہ کشش کی بجائے وہ بڑا سخت دور پھینکنے کا کردارادا کرتی ہیں، دھکا دینے کا کردار ادا کرتی ہیں۔تو عفو بھی اپنے محل پر خوبصورت ہے محل سے ہٹے گا تو بد زیب ہو جائے گا۔پس جماعت میں اگر مجلس شوریٰ کی روح کو زندہ رکھنا ہے تو عفو پر اس طرح عمل کریں جیسے