خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 282
خطبات طاہر جلد 13 282 خطبہ جمعہ فرمودہ 15 اپریل 1994ء سے مراد ہے روز مرہ کی عام غلطیوں، عام کمزوریوں پر، انسان بے وجہ تلخی محسوس نہ کرے یا تلخی محسوس کرنے کا موقع بھی ہو تب بھی برداشت کر جائے اور اپنے پیارے سمجھ کر ان سے انسان نرمی کا سلوک جاری رکھے۔عضو کا مطلب ایک یہ ہے کہ آپ ایک چیز دیکھ رہے ہیں پتا ہے ٹھیک نہیں ہو رہی آنکھیں اس طرف کر لیں مگر اس کی ایک حد ہوتی ہے اس کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔عفو کا مضمون جو ہے اس کا تعلق ایسی کمزوریوں سے ہے جن کا زیادہ تر اثر آپ کی ذات پر پڑتا ہے۔اگر ایسی کمزوریاں ہیں جو نظام جماعت میں رخنہ ڈالنے والی ہوں تو وہاں عفو کا کوئی تعلق نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نظامِ جماعت میں رخنہ تو عفو کی بنیادی وجہ کے منافی ہے۔عفو تو پیدا اس لئے ہوا تھا کہ آپس میں محبت ہے تو وہ لوگ جو محبتوں پر حملے کر دیتے ہیں اور محبتوں پر تبر رکھ دیتے ہیں، جو عفو کی جڑ کاٹتے ہیں، ان سے عفو کا سلوک کیسے ہو سکتا ہے، ان سے عفو کی تعلیم کیسے دی جاسکتی ہے۔پس حضرت اقدس محمد مصطفی میں ﷺ کی زندگی میں کہیں بے انتہا عفو دکھائی دیتا ہے، کہیں بڑی سخت پکڑ دکھائی دیتی ہے اور وہ لوگ جو ان باتوں کا فرق نہیں سمجھتے وہ پھر بعض دفعہ، جب میں بھی سنت محمد مصطفی ملے پر عمل کرتا ہوں تو ، مجھ پر اعتراض کرتے ہیں، مجھے لکھتے ہیں ، یعنی اعتراض ان معنوں میں نہیں جس طرح ایک بیہودہ باتیں کرنے والا اعتراض کرتا ہے بلکہ اپنی نانہی کی وجہ سے ان سے کوئی قصور ہوا ہوتا صلى الله ہے، کہتے ہیں آپ تو عفو کی تعلیم دیتے تھے ، آپ تو کہتے تھے رسول اللہ بے حد عفو کر نے والے ہیں تو ہمارے معاملے میں کیا بات ہے، ہم سے کیوں نہیں عفو کا سلوک ہورہا، تو وہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ عفو کے بھی مواقع ہیں اور پکڑ کے بھی مواقع ہیں۔بعض دفعہ اللہ تعالٰی سَرِيعُ الْعِقَابِ ہے، سَرِيعُ الْحِسَابِ ہے اور بعض دفعہ عفو، غفور ہے۔تو جب تک آپ ان بنیادی صفات الہی کو جو صفات محمد مصطفیٰ بھی نہیں ان پر غور کر کے ان کی کنہ کو نہیں سمجھیں گے اپنے روز مرہ معاملات کو درست کر نہیں سکتے اور نہ نظام جماعت سے آپ کا صحیح حقیقی طور پر صالح تعلق قائم ہوسکتا ہے۔پس فرمایا اگر تم ان سے محبت کرتے ہو اور کرنا چاہتے ہو تو پھر لِنتَ لَهُمْ کے بعد عفو کا سلوک ضروری ہے لیکن ان شرائط کے ساتھ جن کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے، تفصیل سے یہاں بیان نہیں کیں مگر کئی موقعوں پر بیان بھی کی ہیں۔عفو کا ایک محل ہے، موقع ہے، اس کے اندر رہتے ہوئے ضرور عفو سے کام لینا چاہئے اور عفو کا بہت زیادہ تعلق انسان کی ذاتی تکلیف سے ہے۔آنحضرت ﷺ نے ہر اس