خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 281 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 281

خطبات طاہر جلد 13 281 خطبہ جمعہ فرمودہ 15 اپریل 1994ء نتیجے میں اکٹھے ہوتے ہوں، ان کی محبتیں، جو ظاہری نظر آنے والی محبتیں تو محبتیں کہلا ہی نہیں سکتیں، یہ تو خود غرضیاں ہوتی ہیں۔پیسے کی حرص میں جو کچھ خلق انسان کے اندر موجود ہے وہ بھی کھایا جاتا ہے اور ختم ہو جاتا ہے اور لوگ ایسے مکھیوں کی طرح ہوتے ہیں جو گندگی پر بیٹھتی ہیں، جب تک گندگی کا رس چوستی ہیں بیٹھی رہتی ہیں، اس کے بعد اٹھ کے کسی اور گندگی کی تلاش میں چلی جاتی ہیں۔مگر فَمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللهِ لِنْتَ لَهُمْ میں جو مضمون ہے وہ تو ہمیشہ ہمیش کے لئے محمد رسول اللہ اللہ کی طرف بڑے جذبے اور پیار اور محبت اور والہیت کے ساتھ جھکے رہنے کا نام ہے۔یہ ہے حقیقی تالیف قلب جو رسول اکرم ﷺ کے ذریعے ہوئی کیونکہ ایسی صفت ہے جو عارضی نہیں ہے، جو ایک مستقل صفت ہے۔دل کی نرمی اور دل سے پھوٹنے والا پیار کوئی ایسی چیز تو نہیں ہے کہ آج میٹھا اور کل کڑوا ہو جائے ، یہ تو ایک دائمی محمد رسول اللہ ﷺ کے خلق کا اظہار قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ آپ ہیں ہی ایسے، وقتی طور پر نہیں ایسے ہوئے بلکہ ہمیشہ سے اللہ کی رحمت کے نتیجے میں بنائے ایسے گئے ہیں اور اس کے نتیجے میں مومنوں کا آپ کے گرد اکٹھے رہنا ایک لازمی امر ہے، یہ تبدیل نہیں ہوسکتا اور نہ ہوا۔ایک لمحہ بھی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں نہیں آیا کہ جب مؤمن آپ کی ذات سے دور ہوئے ہوں۔پس یا درکھیں کہ وہی کردار ہم نے اپنے معاشرے میں ادا کرنا ہے اور جب آپ یہ کردار ادا کر دیں تو پھر مجلس شوری کا ماحول پیدا ہوتا ہے لیکن شوریٰ میں پہلے دو اور نصیحتیں بھی ہیں جو فرمائی گئی ہیں ان کو پیش نظر رکھیں۔فَاعْفُ عَنْهُمُ وَاسْتَغْفِرُ لَهُم ان سے عفو کا سلوک فرما، جب انسان کسی سے پیار کرتا ہے تو اس کا ایک ثبوت اس کے عفو میں ظاہر ہوتا ہے۔کئی لوگ اپنے پیاروں سے پردہ پوشیاں کرتے رہتے ہیں اور جن سے پیار نہ ہو ان کے چھوٹے سے نقص کو بھی اچھال کے باہر پھینکتے ہیں۔تو عفو کا محبت سے گہرا تعلق ہے اور عفو محبت کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا۔پس جہاں اللہ تعالیٰ ہم سے عفو کا سلوک فرماتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق ہے محبت کا اظہار ہے جہاں حضرت اقدس محمد مصطفی امی کو نصیحت ہے کہ تو جب رحمت ہے ان کے لئے ، جب تو ان کے لئے نرم دل ہے تو اس کا طبعی نتیجہ دکھا، ان سے عفو کا سلوک کر۔یہ مراد نہیں تھی کہ محمد رسول اللہ ﷺ اس سے پہلے عفو نہیں کرتے تھے۔یہ ایک طرز کلام ہے ہمیں سمجھانے کے لئے کہ دیکھو محمد رسول اللہ کو محبت تھی ، انہوں نے عفو بھی کیا۔تمہیں اگر آپس میں ایک دوسرے سے سچا پیار ہے تو تمہیں بھی عفو کا سلوک کرنا پڑے گا۔عفو الله