خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 274
خطبات طاہر جلد 13 274 خطبه جمعه فرمود : 15 اپریل 1994ء جَمِيعًا۔اس پر ابھی مضمون جاری تھا کہ خطبہ ختم ہو گیا یہ انشاء اللہ آئندہ خطبے میں میں پھر دوبارہ شروع کروں گا۔لیکن اس کے ایک پہلو کا شوری سے گہرا تعلق ہے کیونکہ مشورے کی ہدایت سے پہلے حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کا صحابہ پر مہربان ہو جانا اور اس کے نتیجے میں حضور ا کرم کے اردگردان کا گھومتے رہنا اور قرب اختیار کرتے رہنا یہ مضمون بیان ہوا ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر یہ لوگ منتشر ہو جاتے اور اس کے معا بعد فرمایا ہے۔وَشَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ ان سے عفو کر، ان کے لئے بخشش طلب کر اور ان سے مشورہ لیا کر۔پس مشورہ نبوت اور مقتدیوں کے درمیان ، آنحضرت ﷺ کے متبعین کے درمیان ،ایک گہرا تعلق کا رابطہ بن جاتا ہے۔دوسری جگہ قرآن کریم میں مسلمانوں کی تعریف میں بھی یہ بیان فرمایا وَاَمْرُهُمْ شُوری بَيْنَهُمْ کہ ان کے معاملات آپس میں مشورے سے چلتے ہیں۔ان دونوں باتوں کا تالیف قلب سے، ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھا ہو جانے سے، ایک دوسرے سے محبت ہو جانے سے کیا تعلق ہے؟ ایک تو بڑا بھاری، واضح کھلا کھلا تعلق یہ ہے کہ مشورے کی فضا قائم ہی وہاں ہوتی ہے جہاں بھائی چارہ ہو۔اس کے سوا مشورے کی فضا قائم ہو ہی نہیں سکتی یہ انسانی فطرت کے خلاف بات ہے اور اگر بھائی چارہ نہ ہو اور مشورہ ہو تو پھر بد دیانتیاں چلتی ہیں، پھر مشورے میں دھو کے دیئے جاتے ہیں، مشوروں کے اعتبار اٹھ جاتے ہیں۔پس یاد رکھو مجلس شوریٰ کی کامیابی کا راز اس بات میں ہے کہ جماعت احمد یہ بھائی بھائی بنی رہے اور بھائیوں کی طرح ایک جان ہو جائے یا ایک جان دو قالب جس طرح محاورہ مشہور ہے، خواہ قالب الگ الگ ہوں جان ایک ہی رہے۔ایسی صورت میں جو مشورے ہوتے ہیں وہ بہت گہری فراست کے علاوہ تقویٰ پر مبنی ہوتے ہیں۔جب ایک خاندان کے لوگ جو آپس میں پیار رکھتے ہیں، محبت کرتے ہیں، جب کسی مسئلے کے متعلق اکٹھے ہو کر ، سر جوڑ کر باتیں کرتے ہیں تو مشوروں کے دوران گہری سنجیدگی پائی جاتی ہے، ہمدردی پائی جاتی ہے اور غور و فکر کے لئے ہر انسان گہرا انہماک رکھتا ہے اور یہی وہ روح ہے جو جماعت احمدیہ کی مجالس شوری میں زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہنی چاہئے۔اس کے بغیر جماعت احمدیہ کی شوری یا مجالس مشاورت اپنے مقاصد کو نہیں پاسکیں گی۔بھائی چارے کی فضا اتنی ضروری ہے کہ میں نے دیکھا ہے پہلے بھی ، یعنی خلافت سے پہلے بھی جب میں بچپن سے مجالس شوری میں بیٹھا کرتا تھا ، کہ کوئی ایک شخص بھی مشورے کے دوران اگر کوئی