خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 268 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 268

خطبات طاہر جلد 13 268 خطبہ جمعہ فرمودہ 8 را پریل 1994ء قیامت کے دن دوبارہ دیکھے نہ دیکھے، باخبر تو ہو گی مگر وہ پردہ پوشی اس مضمون کا انتہائی مقام ہے۔تم نہ یہاں ننگے کئے جاؤ گے۔نہ وہاں ننگے کئے جاؤ گے۔اتنی عظیم الشان خوشخبری ہے اور سب سے زیادہ دنیا اس بات سے غافل ہے۔اپنے بھائی کے عیوب کو تلاش کرنا جس کے خلاف قرآن کریم کی واضح نصیحت موجود ہے، ہدایت ہے وَلَا تَجَسَّسُوا ہرگز جس اختیار کر کے اپنے بھائیوں کی کمزوریاں نہ پکڑا کرو اس سے کلیہ غافل بلکہ آگے بڑھ کر کمزوریاں تلاش کرتے ، ان کے متعلق باتیں کرتے ، سوسائٹی میں وہ خبریں پھیلاتے اور خاص طور پر عورتوں میں یہ بیماری ہے اور مردوں میں بھی ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی ہو نے پردہ پوشی کے مضمون کو تو درجہ کمال تک پہنچا دیا ہے۔جب میں نے یہ ذکر کیا کہ باقی انبیاء کی نصیحتیں دیکھ لیں اور مقابلہ کر کے دیکھیں تو بعض غیر مذاہب والے جب بات کو سنتے ہیں یا سنیں گے تو وہ سمجھتے ہوں گے کہ شاید اپنے نبی کی تعریفیں تو ہر ایک کرتا ہی ہے۔مگر جب میں مضمون بیان کر رہا ہوں اس پر دیانتداری سے غور تو کر کے دیکھیں کوئی ایسی مثال تو نکال کے دکھا ئیں کہ کسی دنیا کے نمی نے پردہ پوشی کے مضمون کو اس شان سے بیان کیا ہو اور اس تفصیل صلى الله سے بیان کیا ہو اور اس گہری حکمت اور فراست سے بیان کیا ہو۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ پر جو تعلیم اتری ہے اس نے اس کے سارے پہلوؤں کو ڈھانپ لیا ہے۔لَا تَجَسَّسُوا فرمایا کہ ذکر کرنا تو بعد کی بات ہے، نظر ہی نہ ڈالو، تلاش ہی نہ کرو۔تمہارے سامنے اگر کسی کی کمزوری آجاتی ہے تو اس سے بھی آنکھیں بند کرنے کی کوشش کرو۔بعض معاملات میں اس کی اجازت نہیں ہے اس کا ذکر بھی ضروری ہے لیکن وہ میں بعد میں کروں گا۔عام طور پر جو بھائیوں کی کمزوریاں ہیں ان کے متعلق یہ تعلیم ہے اور اس ضمن میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے تعلیم کو اس حد تک آگے بڑھا دیا ہے کہ وہ زمانہ جبکہ خط و کتابت کا رواج ہی نہیں تھا، شاذ کے طور پر لوگ خط لکھا کرتے تھے، اس وقت یہ تعلیم دی کہ کسی کا خط نہ پڑھو۔حالانکہ یہ مضمون آج کے زمانے سے تعلق رکھتا ہے اور آج بھی بہت بے وقوف اور متجسس لوگ ایسے ہیں جو چوری ایک دوسرے کے خط پڑھتے ، پھر ان کو احتیاط سے کھولتے اور اسی طرح بند کرتے ہیں اور بتاتے ہیں گویا ہمیں پتہ نہیں لگا اور گھر میں بہو بیٹیوں کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں۔بعض لوگ گھر میں کسی کی بیٹی آجائے تو یہ دیکھنے کے لئے کہ اپنے ماں باپ کو کیا بھتی ہے یا اس کے ماں باپ اس کو کیا لکھتے ہیں وہ اس کے خطوں کو اس طرح خفیہ خفیہ کھولتے اور اس کے ارادوں کو