خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 262 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 262

خطبات طاہر جلد 13 262 خطبہ جمعہ فرمود و 8 را پریل 1994ء پھر آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ وہ اس پر ظلم نہیں کرتا اور اسے بے یارو مددگار نہیں چھوڑتا۔تکلیف دور کرنا ایک الگ بات ہے۔بے یار و مددگار نہ چھوڑنا ایک اور بات ہے۔یعنی کئی لوگ آپ کو اپنی سوسائٹی میں ایسے دکھائی دیں گے جن کے پاس کوئی کام نہیں ہے، جو کئی قسم کی روز مرہ کی زندگی کی بقا کی جدوجہد میں تکلیفیں اٹھارہے ہیں اور بظاہر وہ آپ سے الگ ہیں۔لیکن اگر ساری جماعت کو ان کی تکلیف کا احساس نہ ہو اور اپنے بے یارو مددگار بھائیوں کی مدد کے لئے ذہن بے چین نہ ہو اور بے قرار نہ ہو تو پھر اس حدیث کا پورا اطلاق ان پر نہیں ہوگا۔مسلمانوں کا حصہ تو ہیں کیونکہ وہ دکھ نہیں پہنچاتے اور واضح کھل کھلا دکھا اگرکسی کو پہنچ جائے تو مد بھی کرتے ہیں،ایکسیڈنٹ ہو جائے یا اور بیماری کی تکلیف ہو تو کوشش کرتے ہیں کہ وہ دور کی جائے لیکن میں اس سے اگلے مقام کی بات کر رہا ہوں جس کی طرف حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ نے اشارہ فرمایا ہے، وہ یہ ہے کہ تم میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کا کوئی ناصر، کوئی معین، کوئی مددگار نہیں ہے۔وہ اکیلے اپنی زندگی کی جدوجہد میں مخالف طاقتوں سے لڑرہے ہیں اور مدد چاہتے ہیں۔مگر ہوسکتا ہے ان کی غیرت کا تقاضا ہو وہ آپ کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائیں۔تلاش کریں ایسے لوگوں کو، نظر رکھیں ان پر اور جو خدا تعالیٰ نے آپ کو صلاحتیں بخشی ہیں، ان صلاحیتوں سے ان کو بھی حصہ دیں۔اگر ایک شخص ہے جو تجارت کرنا نہیں جانتا اور آپ میں سے ایسا ہے جو تجارت کے فن سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے مالا مال کیا گیا ہے ، خوب اچھی طرح اسے تجارت کے داؤ پیچ آتے ہیں اور وہ اللہ کے فضل سے ان سے بہترین استفادہ کر رہا ہے تو اس کا اس حدیث کی رو سے یہ فرض ہوگا کہ وہ نظر دوڑائے ، ایسے لوگ جو ان باتوں سے نا آشنا ہیں اور ضرورت مند ہیں ، نہ ان کو نوکریاں مل رہی ہیں ، نہ کوئی اور کام میسر ہیں، ان کو اپنے ساتھ لگائیں، پیار کے ساتھ رفتہ رفتہ ان کو سنبھالیں اور اپنے پاؤں پر کھڑا کریں۔یہ جو نصیحت ہے اس ضمن میں ایک احتیاط کی بھی ضرورت ہے اور ضروری ہے کہ آپ کو جس راہ پر چلایا جائے اس کے گڑھوں سے بھی واقف کیا جائے۔اس راہ پر چلتے ہوئے جو چور اُچکے ان راہوں پر ڈاکے ڈالتے ہیں ان سے بھی واقفیت کرائی جائے ورنہ آپ آنکھیں بند کر کے یہ قدم اٹھا ئیں تو نقصان کا بھی خطرہ ہے۔بعض لوگ اپنی بعض بد عادتوں کی وجہ سے اس حالت کو پہنچتے ہیں کہ ان کی مدد کرنا بھی نقصان کا سودا ہے اور ان کو اگر آپ اپنی تجارت میں شامل کریں گے تو ہر گز بعید