خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 261
خطبات طاہر جلد 13 261 خطبہ جمعہ فرمودہ 8 اپریل 1994ء ذکر کیا ہے۔مگر اس اپریشن کی دو قسمیں ہیں یہ میں آپ کو اچھی طرح سمجھا دوں۔ایک قسم یہ ہے کہ اپنا جزو بدن کا ٹا جارہا ہے، ایک قسم یہ ہے کہ غیر آپ کے بدن میں داخل ہے اور اس حد تک غیر اور تکلیف دہ ہے کہ آپ اسے نکال باہر پھینکنے میں راحت محسوس کرتے ہیں، دکھ محسوس نہیں کرتے۔پس دو قسم کے لوگ ہیں جن کو بالاخر جماعت سے باہر نکالنا پڑتا ہے۔ایک وہ جو شریر ہیں جو صلى الله فسا در کھتے ہیں اور فساد کرتے ہیں وہ لوگ جن کا حقیقت میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ اور آپ کی جماعت یعنی جماعت احمدیہ سے کوئی تعلق نہیں رہتا بلکہ وہ بیرونی شریر ہیں جو جماعت میں گھس کر فتنہ پردازیوں سے کام لیتے ہیں اور محض ایک لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ایسے لوگوں کو نکالنے کا دکھ نہیں ہوتا بلکہ جماعت جس کو وہ تکلیف پہنچا رہے ہوتے ہیں ان کی راحت کے خیال سے دل کو راحت پہنچتی ہے اس لئے فرضی طور پر ایک بات اس رنگ میں نہیں کہنی چاہئے کہ گویا بہت اچھی بات کہی جا رہی ہے خواہ حقیقت سے اس کا تعلق نہ ہو۔پس میں ہمیشہ کوشش کرتا ہوں کہ بات کرتے وقت احتیاط کی جائے کہ حقیقت کے دائرے سے وہ بات باہر نہ نکلے۔پس ہر آپریشن کا دکھ نہیں پہنچتا۔بعض جراحی کے عمل ایسے ہیں جن سے حقیقۂ راحت محسوس ہوتی ہے اور اس راحت کو محسوس کرنے میں مجھے کبھی کوئی شرم محسوس نہیں ہوئی کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ فتنہ پرداز اس جرم کی حد کو پہنچ چکا ہے کہ جس کے بعد یہ ہمارا جزو بدن نہیں رہا بلکہ غیر ہے جو اندر داخل ہو کر ان کو جو جزو بدن ہیں تکلیف پہنچا رہا ہے۔پس جب ایک شیشے کا ٹکڑا پاؤں میں سے کھینچ کر باہر نکالا جائے، جبکہ ایک کانٹا نکالا جائے ، جب کوئی دبی ، چھپی ہوئی گولی اندر سے نکال کر باہر کی جائے تو کبھی تکلیف نہیں پہنچتی۔یہ جھوٹ ہو گا اگر آپ یہ کہیں کہ ہمارے بدن سے ایک چیز نکلی اور ہمیں بڑا دکھ پہنچا۔راحت محسوس ہوتی ہے کیونکہ اس سارے ماؤف حصے کو چین آجاتا ہے جہاں اس بیرونی چیز نے ایک مصیبت پا کر رکھی تھی۔دکھ ان کا ہوتا ہے جو بعض دفعہ غلطیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔بنیادی طور پر وہ جماعت احمدیہ کا ہی جزو ر ہتے ہیں۔جماعت سے نکالنا ان کو بے قرار کر دیتا ہے، ان کی زندگیاں ان پر اجیرن ہو جاتی ہیں وہ جزو بدن ہی ہیں۔لیکن بعض مجبور یوں کے پیش نظر بعض ایسی غلطیوں کے پیش نظر جن کو نظام جماعت نظر انداز نہیں کر سکتا کیونکہ وہ انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہوتا ہے، انہیں جب نکالنا پڑتا ہے یا انہیں جب سزا دینی پڑتی ہے تو حقیقہ ایسی ہی تکلیف محسوس ہوتی ہے جیسے اپنے کسی بدن کے حصے کو انسان سزا دینے پر مجبور ہو جائے۔