خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 255
خطبات طاہر جلد 13 255 خطبہ جمعہ فرمودہ 8 اپریل 1994ء تین مقاصد کو ایک ایک کر کے میں نے اپنے خطبات کا موضوع بنایا۔سب سے پہلے ایک سلسلہ تو حید باری تعالیٰ کے موضوع پر خطبات کا شروع ہوا۔پھر اس کے بعد اسی ترتیب سے تقبل الی اللہ کی باری آئی اور تبتل الی اللہ کے موضوع پر بھی ایک سلسلہ خطبات کا جاری رہا۔پھر آج سے پہلے تیسرے نمبر پر ذکر الہی میں ایک خاص رنگ ہو“ کے موضوع پر میں نے جماعت کو مخاطب کیا اور جس حد تک بن پڑا بڑی تفصیل سے اور گہرائی میں جا کر ذکر الہی کے موضوع کو جماعت پر خوب روشن کیا۔آج اب آخری سلسلے کی باری آئی ہے یعنی حقوق اخوان، میں بھی خاص رنگ ہو۔یعنی یہ تمام باتیں جب پوری ہو جائیں۔توحید کا خالص اقرار ہی نہیں بلکہ تو حید کو اپنے رگ و پے میں سمو دیا جائے اور ہماری زندگی میں تو حید سرایت کر جائے پھر اللہ کی طرف تبتل ہو اور دنیا سے انقطاع کر کے خالصہ خدائے واحد کی طرف رجوع ہو پھر اس کے نتیجے میں ذکر الہی میں انسان بہت ترقی کرے جب یہ تینوں منازل طے کر لے تب وہ اس قابل ہوتا ہے کہ بنی نوع انسان کے حقوق ادا کر سکے۔اس کے بغیر بنی نوع انسان کے حقوق ادا کرنے کا کسی انسان سے کوئی تصور نہیں باندھا جاسکتا، کوئی امید وابستہ نہیں کی جاسکتی۔پس اب میں حقوق اخوان سے متعلق آپ کے سامنے بعض بنیادی امور رکھتا ہوں لیکن اس سلسلے میں جو ذہنی ترتیب میں نے دی ہے وہ یہ ہے کہ سب سے پہلے جماعت احمدیہ کو آپس میں ایک دوسرے سے محبت اختیار کرنے کی تلقین کی جائے اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی جائے کیونکہ حضرت اقدس محمد مصطفی عملے کی یہی تعلیم ہے کہ اسلام پہلے گھر سے شروع ہوتا ہے، اسلام جو حقوق مسلمانوں کے دوسرے مسلمان بھائیوں کے لئے مقررفرماتا ہے ان حقوق کی ادائیگی کے بغیر بنی نوع انسان کی بھلائی کا دعویٰ کرنا بالکل بے سود اور بے معنی ہوگا۔پس حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے جو رحمتہ للعالمین تھے جہاں تمام بنی نوع انسان کے لئے اور تمام جہانوں کے لئے مبنی بر رحمت تعلیم دی اسی طرح آپ نے بلکہ اس سے پہلے تمام مسلمانوں کو ایک دوسرے کے حقوق کی طرف متوجہ فرمایا اور دراصل اس طرح امت مسلمہ کو تمام بنی نوع انسان کے حقوق ادا کرنے کے لئے تیار کرنا مقصود تھا۔پس اس سنت کے مطابق میں نے پہلے ایسی احادیث چنی ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایسے اقتباسات چنے ہیں جن میں جماعت کو آپس کے تعلقات سے متعلق نصیحتیں ہیں اور ان کو بتایا گیا ہے کہ کون کون سے امور ہیں جن کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں ، کون کون سے تعلقات کے