خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 248
خطبات طاہر جلد 13 248 خطبہ جمعہ فرمودہ یکم اپریل 1994ء نہ کل پڑنا کہ ذکر الہی چونکہ نماز کے بعد بھی جاری رہتا ہے اس لئے وہی اصل ہے اور نمازیں ترک کر دو اور خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ مال اللہ کے ذریعے جو شریعت عطا کی ہے اس سے تم بالا ہو جاؤ گے۔محمد مصطفی ﷺ کی شریعت سے باہر ہلاکت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔یہ سب پیری فقیری کے جھوٹے قصے ہیں۔یہ دنیا کی لعنتیں کمانے کی خاطر یہ خدا کے ذکر کو بیچنے والے لوگ ہیں۔ذکر الہی اختیار کریں ویسا ذکر جیسے حضرت محمد مصطفی ﷺ نے اختیار فرمایا اور جیسا کہ آپ کے صحابہ نے آپ سے سیکھا پھر ہر حالت میں آپ کا ہر ذکر نماز ہی بن جائے گا لیکن نماز چھوڑیں گے تو پھر نماز نہیں بنے گا اگر نماز پڑھیں گے تو ذکر بھی نماز بن جائے گی۔نماز نہیں پڑھیں گے تو ذکر بھی ذکر نہیں رہے گا۔حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے صحابہ کو مجھے یاد ہے میں اس صلى الله طرح دیکھتا تھا کہ نماز مغرب سے قبل ستونوں کی طرف دوڑتے تھے یہاں تک کہ آنحضرت مے تشریف لے آتے۔یہاں یہ بھی میں بتا دوں کہ جب نماز شروع ہو جائے اس وقت مسجد کی طرف دوڑنے کی اجازت نہیں ہے۔یہ ایسے ست آدمیوں کا ذکر نہیں ہو رہا جو نماز میں دیر سے پہنچیں اور رکوع بچا کر اپنی رکعت پوری کرنے کے جوش میں دوڑ رہے ہوں۔یہ وہ لوگ ہیں جو وقت سے پہلے پہنچتے تھے اور حضرت محمد رسول اللہ اللہ کے قریب ہونے کے شوق میں تا کہ اس ذکر الہی رسول کے پاس رہ کر اس کے قرب میں ذکر کریں۔کہتے ہیں میں دیکھا کرتا تھا کہ کس طرح صحابہ دوڑتے ہوئے جاتے تھے کہ پہلے وقت میں مسجد کی پہلی صف میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے قریب پہنچ جائیں۔انس بن مالک سے روایت ہے کہ وہ نماز اس طرح پڑھتے تھے کہ بعض دفعہ رکوع کرتے تو اتنی دیر رکوع کرتے کہ لوگ سمجھتے تھے بھول ہی گئے ہیں اور ایک راوی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ساری رات رکوع میں گزار دی۔میں اسے تسلیم نہیں کرتا۔وہ دور کی کچی روایت ہے مگر ان کی مراد یہ ہوگی کہ لگتا یوں تھا کہ گویا رات بھر رکوع میں ہی رہیں گے یا رہے ہیں اور کہتے تھے جب دو سجدوں کے درمیان بیٹھتے تھے تو یکدم پلٹ کر دوسرا سجدہ نہیں کر دیتے تھے بلکہ وہاں بھی ذکر میں گم اور ایسے بیٹھ جاتے تھے گویا بھول ہی گئے ہیں کہ آگے بھی کوئی سجدہ آنے والا ہے۔حضرت عبد الله بن شداد کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ ایک دفعہ نماز پڑھا رہے تھے اور میں آخری صف میں تھا لیکن حضرت عمرؓ کی گریہ وزاری کی آواز سن رہا تھا وہ یہ تلاوت کر رہے تھے۔اِنَّمَا