خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 245 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 245

خطبات طاہر جلد 13 245 خطبہ جمعہ فرمودہ یکم اپریل 1994ء بیان فرمایا اور وہ اور مضمون تھا جو اپنی ذات میں جاری کر کے دکھا یا وہ ان گنت ذکر الہی کا مضمون ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: اصل بات یہی ہے کہ جب تک ذکر الہی کثرت سے نہ ہو اور وہ لذت اور ذوق جو اس ذکر میں رکھا گیا ہے حاصل نہیں ہوتا۔آنحضرت ﷺ نے جو تینتیس مرتبہ فرمایا ہے وہ آئی اور شخصی بات ہوگی۔‘ (ملفوظات جلد 4 صفحہ:14) یعنی وقتی تقاضے کے پیش نظر اور بعض اشخاص کے حالات سے تعلق رکھنے والی بات ہوگی اسے تم عام نہ سمجھ بیٹھو۔بعض لوگ ذکر الہی کو نماز سے بڑھا دیتے ہیں اور ایسے فتنے بہت سے پاکستان میں بھی پھوٹ رہے ہیں ان دنوں۔یہ زمانہ Cult کا زمانہ ہے اور ذکر کے نام پر دنیا کو گمراہ کرنے کے لئے بہت سی تحریکات چل رہی ہیں۔یہ جو آپ ہرے کرشنا والوں کو دیکھتے ہیں، چھٹے بجانے والوں کو دیکھتے ہیں یہ سارے اللہ کا ذکر بیچ رہے ہوتے ہیں۔ان کا آخری مقصد یہ ہے کہ اللہ کے نام سے جو بنی نوع انسان کو محبت ہے اس کا اثر طبیعتوں پر ڈال کر ان سے ڈالر یا گلڈر یا پاؤنڈ وصول کئے جائیں اور رفتہ رفتہ ان کی دولتیں خدا کے نام پر سمیٹی جائیں۔پس ایسی ساری تحریکات دیکھتے دیکھتے بہت دولتیں سمیٹ لیتی ہیں۔اللہ کا ذکر بیچ بیچ کے بڑے بڑے عالیشان محلات بنا لئے جاتے ہیں اور یہی ذکر بیچنا ہے جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ شدید ہلاکت کی راہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینے والی بات ہے۔اللہ کے ذکر کو بیچا نہیں جاتا۔اب پاکستان میں بھی ایسی تحریکات چل پڑی ہیں کہ شیخوں کے نام پر ان کو بعض ذکر پڑھائے جاتے ہیں۔وہ لوگ جو اچھے بھلے پہلے نمازی ہوا کرتے تھے ، عبادت گزار تھے، وہ پاگل بنا دیئے جاتے ہیں۔ان کو کہا جاتا ہے کہ رات کو اٹھ کے یہ وظیفے کرلو تو ساری زمین تمہاری ہے، سارا آسمان تمہارا ہو جائے گا اور اس طرح پاگل بنا بنا کے ان بے چاروں کی حالت بگاڑتے ہیں اور یہ بھی اطلاع مل رہی ہے کہ اب ان لوگوں نے اپنی شاخیں یورپ میں بھی پھیلانی شروع کی ہیں اور امریکہ اور کینیڈا وغیرہ میں بھی کچھ ایجنٹ بنالئے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ یہ نماز جو ہے یہ تو ایک سطحی سی چیز ہے، ایک برتن ہے خالی، اصل ذکر ہوا کرتا ہے۔اس لئے اس طرف توجہ نہ کرو ہم تمہیں جوذ کر بتا ئیں گے وہ کیا کرو پھر دیکھو کہ دنیا کس طرح تمہاری غلام بنتی ہے اور