خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 244
خطبات طاہر جلد 13 244 خطبہ جمعہ فرمودہ یکم اپریل 1994ء ہوں۔جاگے ہوئے ہوں تو تب بھی ذکر میں مصروف ہوں مجسم ذکر الہی بن جائیں، خدا آسمان سے گواہی دے کہ یہ وہ رسول ہم نے تم میں اتارا ہے جو ذکر الہی بن چکا ہے اس کے سوا اس میں کچھ بھی باقی نہیں رہا۔تو ظاہر بات ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو نکتہ اٹھارہے ہیں قابل غور ہے۔فرماتے ہیں کہ اس کو محدود نہ سمجھ لو۔یہ ذکر الہی جس کا قرآن کریم ذکر فرما رہا ہے یہ تو تمہارے دن رات کے ہر لمحے پر حاوی ہو جانا چاہئے۔وہ 33 والا نسخہ تو ان لوگوں کے لئے تھا جنہوں نے ایک خاص تکلیف پیش کی تھی اس تکلیف کے جواب میں آنحضور نے فرمایا کہ اتنا کرو تو یہ تکلیف تو تمہاری رفع ہو جائے گی مگر یہ تو نہیں تھا کہ ان کو روکا ہو باقی ذکر سے یا ان کے علاوہ دوسروں کو روک دیا ہو۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اصل محبت پیدا ہوتو شمار کا کوئی سوال نہیں رہا کرتا۔عشق الہی کرنے والے گنا نہیں کرتے۔آپ نے حضرت رسول اکرم ﷺ کی مثال دی ہے۔کب کسی نے آپ کے ہاتھ میں تسبیح دیکھی تھی جس میں سودانے تھے۔آپ کے کسی خلیفہ نے وہ تہی نہیں پکڑی ، آپ کے کسی صحابی نے وہ تسبیح نہیں پکڑی۔بعد کی ضرورت کے حالات کے مطابق ایجادات ہیں۔وقت کی ضرورت ہو گی لیکن ان لوگوں کے لئے جواد فی حالتوں کے تھے۔ان کو کچھ سکھانے کی خاطر کسی بزرگ نے یہ طریق ایجاد کر دیا ہو گا مگر نہ قرآن میں تسبیح کے دانوں کا ذکر، نہ سنت میں تسبیح کے دانوں کا ذکر ، نہ کسی صحابی سے ثابت کہ ہاتھ میں تسبیح پکڑے پھرتے تھے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے کبھی گن کے ذکر کیا ہی نہیں۔ان گنت ذکر تھا اور فرماتے ہیں: یہ تو دنیا کے عاشقوں کو بھی پتا ہے۔کہتے ہیں ایک عورت کا قصہ مشہور ہے کہ وہ کسی پر عاشق تھی اس نے ایک فقیر کو دیکھا کہ وہ تسبیح ہاتھ میں لئے ہوئے پھر رہا ہے اس عورت نے اس سے پوچھا کہ تو کیا کر رہا ہے اس نے کہا میں اپنے یار کو یاد کرتا ہوں۔عورت نے کہا کہ یار کو یاد کرنا اور پھر گن گن کے“۔یہ کون سا عشق ہے؟ مجھے دیکھو میں کس طرح اپنے یار کے لئے دیوانی ہوئی پھرتی ہوں۔دن رات اس کا تذکرہ میرے منہ پر ہے۔تو اچھایار کا یار بن بیٹھا ہے کہ گن گن کے یاد کر رہا ہے۔عشق کے ساتھ گنتی کا مضمون چلتا نہیں۔پس وہ اور مضمون تھا جو حضور اکرم ﷺ نے وہاں