خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 243 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 243

خطبات طاہر جلد 13 243 خطبہ جمعہ فرمودہ یکم اپریل 1994ء اس سے انکار کا۔پس حقیقت میں شکر ہی ہے جو حقیقی ایمان بخشتا ہے اور ناشکری ہی ہے جو کفر کی طرف لے کے جاتی ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرما رہے ہیں کہ اس کا تعلق ذکر سے ہے۔ذکر سے بات چلی ہے، تم اگر ذکر کرو گے تو شکر گزار بندے بنو گے۔ذکر کرو گے تو کافر نہیں ہو سکتے لا زما خدا کے مومن بندے ہو گے اور ذکر کرو گے تو خدا تمہارا ذکر کرے گا اور خدا جن کا ذکر کرتا ہے ان کو مٹنے نہیں دیا کرتا۔یہ ناممکن ہے کہ خدا کسی کا ذکر کر رہا ہو اور وہ لوگ صفحہ ہستی سے مٹادئیے جائیں۔پس آپ کی بقا کا نسخہ بھی یہی ذکر ہے اگر ہمیشہ کے لئے باقی رہنے والے سے آپ کا تعلق جڑ جائے تو اس کی عطا سے آپ میں بقا کی صفات پیدا ہو جاتی ہیں۔باقی رہنے کی صفات پیدا ہو جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مزید فرماتے ہیں: قرآن شریف میں تو آیا ہے، وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (انفال:46) اللہ تعالیٰ کا بہت ذکر کرو تا کہ فلاح پاؤ اب يه وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرً ا نماز کے بعد ہی ہے۔یعنی نماز کے بعد جو کثرت سے ذکر کی ہدایت فرمائی گئی ہے یہ وہ آیت ہے۔فرمایا اب نماز کے بعد خدا تعالیٰ وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرً ا فرما رہا ہو تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ 33 دفعہ سبحان اللہ، 33 دفعہ الحمد للہ، 34 دفعہ اللہ اکبر کہہ دو تو ذکر مکمل ہو جائے۔یہ تو كثيرًا میں نہیں آتا۔فرمایا اس لئے یہ حدیث سن کر کہ حضور اکرم ﷺ نے نماز کے بعد 33-33 دفعہ تسبیح وتحمید کا ذکر فرمایا اور پھر 34 دفعہ تکبیر کا۔یہ نہ سمجھ لینا کہ یہی ذکر الہی ہے جس کی طرف یہ آیت توجہ دلا رہی ہے کہ کثرت سے ذکر کیا کرو۔فرمایا یہ اس زمانے میں ان لوگوں کے لئے جن کے حالات آنحضور کے پیش نظر تھے ان کو نسخوں میں سے ایک نسخہ دیا ہے۔اس کو اس آیت کا متبادل نہ سمجھ بیٹھنا ورنہ آنحضرت ﷺ کا اپنا طریق تو یہ نہیں تھا آپ تو خود مسجد میں بیٹھ کے نماز کے بعد 33 دفعہ سبحان اللہ، 33 دفعہ الحمد للہ یعنی تسبیح وحمد اور تکبیر آپ تو نہیں کیا کرتے تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایتیں ہیں اور بھی روایتیں ہیں کہ بعض دوسری دعائیں کر کے گھر تشریف لے جاتے تھے۔تو اس لئے یہ تو ناممکن ہے کہ آنحضور ﷺ کثرت سے ذکر کا یہ مطلب سمجھتے ہوں کہ صرف 33 دفعہ کرو اور خود اس پر عمل نہ کریں اور خود دن رات ذکر میں رہیں۔یعنی سوئے ہوئے ہوں تو تب بھی ذکر میں مصروف الله