خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 236
خطبات طاہر جلد 13 236 خطبہ جمعہ فرمودہ یکم اپریل 1994ء ہیں۔ان اداؤں سے دور بھاگے جن کو خالق نفرت سے دیکھتا ہے۔اگر ایسا ہوتو مخلوق اور خالق کے درمیان یہ سنگم ہے، یہ رشتہ ہے، جو دونوں کو ایک دوسرے کے قریب تر کرتا چلا جاتا ہے اور یہ سفر ہمیشہ کے لئے جاری ہے۔اس کا کوئی آخری مقام نہیں اور اس سفر میں اگر چہ رخ خالق کی طرف ہوتا ہے مگر خالق کا رُخ چونکہ مخلوق کے ساتھ احسان اور بے انتہا رحم و کرم کے سلوک کا رُخ ہے اس لئے خالق کے اندر جا کر پھر مخلوق دکھائی دینے لگتی ہے اور خالق کا جو تعلق مخلوق سے ہے وہی تعلق خالق سے تعلق باندھنے والا اختیار کرتا چلا جاتا ہے اور اگر خالق کی نظر سے کوئی مخلوق کو دیکھنے لگے تو اس سے مخلوق کیلئے کسی شر کا کوئی احتمال نہیں۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے اللہ اپنے بندوں کے لئے شر پیدا کر رہا ہے تو یہ وہ دو ٹوک بات ہے، دو نکاتی بات ہے جس کو سمجھنے کے بعد کوئی ذی شعور انسان اس کے انکار کی جرات ہی نہیں کر سکتا، اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔Peace کی حقیقت کیا ہے؟ یہی ہے کہ ایک انسان دوسرے بندوں کو اس طرح دیکھنے لگے جیسے وہ اپنی اولا دوں، اپنے پیاروں اور اللہ کے ساتھ ایسی محبت کرے کہ اس کے پیارے بن جائیں۔خدا اپنی مخلوق کو شر کی نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔خدا اپنی مخلوق کی بھلائی چاہتا ہے۔پس لازماً ایسے بندے پیدا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ میں انسان کے وجود کا کھویا جانا ضروری ہے اور یہ وہ مقام ہے جو ذکر الہی سے نصیب ہوتا ہے۔کثرت کے ساتھ ذکر الہی کے نتیجے میں انسان خالق کے مزاج کو سمجھتا ہے وہ کیا چاہتا ہے؟ کیا پسند نہیں فرماتا؟ ان باتوں سے آگاہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں ذکر کے ساتھ انسان کے اندر ایک دن بدن بر پا ہونے والا انقلاب بر پا ہونا شروع ہو جاتا ہے، اس کے اندر تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔پس ہر وہ ذکر جو تسبیح کے دانوں تک محدود رہے انگلیاں اس پر پھرتی رہیں لیکن انسان کے وجود میں کوئی پاک تبدیلی پیدا نہ ہو وہ ذکر الہی نہیں ہے، وہ ذکر نفس ہوسکتا ہے، کوئی اور شیطانی ذکر ہوسکتا ہے مگر اس کا نام اللہ کا ذکر رکھنا گناہ ہے۔ذکر الہی اندرونی تبدیلیاں پیدا کئے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔اللہ کا ذکر ہو اور دل میں شیطانی وساوس ہوں، اللہ کا ذکر ہو اور فارغ ہوتے ہی بنی نوع انسان کے خلاف ظلم کے منصوبے چلائے جار ہے ہوں۔اللہ کے ذکر میں تسبیح پر انگلیاں پھر رہی ہوں اور ذہن میں سیاسی چالیں ہوں۔یہ ہو کہ جب ہم اوپر آئیں گے تو بنی نوع انسان سے یہ کچھ کریں گے۔یہ ذکر نہیں ہے، یہ دھوکا ہے۔ذکر وہی