خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 223 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 223

خطبات طاہر جلد 13 گناہ کٹ جاتے ہیں۔فرماتے ہیں: 223 خطبه جمعه فرموده 25 / مارچ 1994ء اصل غرض ذکر الہی سے یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو فراموش نہ کرے اور اسے اپنے سامنے دیکھتا ر ہے اس طریق پر وہ گناہوں سے بچار ہے گا۔تذکرۃ الاولیاء میں لکھا ہے ایک تاجر نے ستر ہزار کا سودالیا اور ستر ہزار کا دیا مگر وہ ایک آن میں بھی خدا سے جدا نہیں ہوا۔پس یاد رکھو کہ کامل بندے اللہ تعالیٰ کے وہی ہوتے ہیں جن کی نسبت فرمایا ہے لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ الله ـ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ: 15) اسی آیت کی تفسیر ہے جو میں نے پڑھی تھی۔اسی تفسیر کے تعلق میں حدیث نبوی بیان کی جس میں یہ ذکر ملتا ہے کہ بازار میں یاد کرنے والے کا ایک بہت بڑا مرتبہ ہے اور وہی مضمون مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تذكرة الاولیاء کے حوالے سے یوں بیان فرماتے ہیں۔ایک بزرگ کے متعلق لکھا ہے کہ اس نے ستر ہزار کا دیا اور ستر ہزار کا لیا۔یعنی سودا ایسا کیا کہ کچھ خریدا، کچھ بیچا۔لیکن ایک آن بھی خدا کے خیال سے غافل نہیں رہا۔اب ایسا شخص جب تاجر بنتا ہے تو تجارت کی دنیا میں امن کی ضمانت ہو جاتی ہے اور اگر سارے تاجر ذکر الہی کرنے والے ہوں تو سارے خوف جو تجارت سے تعلق رکھتے ہیں، دنیا سے اٹھ جائیں اور مال بجائے اس کے کہ دنیا کمانے کا ذریعہ بن جائے اللہ تعالیٰ کمانے کا ایک بہت بڑا ذریعہ بن جاتا ہے۔کیونکہ ایسا شخص جو ذ کر الہی کرتے وقت سودے کرتا ہے، اس کے متعلق یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ ساتھ ساتھ جھوٹ بول رہا ہو کہ خدا کی قسم میں نے تو اتنے کا خریدا تھا میں تمہیں اتنے میں بیچ رہا ہوں اور یہ جو منظر ہے یہ آپ کو بعض مسلمان ممالک میں بھی عام دکھائی دیتا ہے اور بڑی دردناک بات ہے کہ مسلمان ممالک میں دوسروں سے زیادہ پایا جاتا ہے کیونکہ باقی تو خدا کے ذکر سے اتنا دور جاچکے ہیں کہ اپنی ذاتی منفعت کے لئے جھوٹ بولنے کے لئے بھی خدا یاد نہیں آتا۔لیکن مسلمانوں بے چاروں میں اتنی بات تو ہے کہ جھوٹ کے وقت، ذاتی غرض کے لئے خدا ضرور یاد آ جاتا ہے، کچھ تو ہے بہر حال۔گرچہ ہے کس کس برائی سے بھلے بایں ہمہ برائی سے ہی لیتے ہیں مگر نام تو یاد رکھتے ہیں اللہ کا تو برے وقتوں میں سہی مگر جب جھوٹ