خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 224
خطبات طاہر جلد 13 224 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 / مارچ 1994ء کے لئے اور فساد کے لئے اور دنیا کو دھوکہ دینے کے لئے خدا کا نام لیا جائے تو ایک بڑی مکر وہ حرکت ہے، بہت بڑا گناہ ہے لیکن ایسا ہوتا ہے۔تو ان معنوں میں یاد نہیں کرنا جن معنوں میں خدا کا نام لے کر قسمیں کھا کر جھوٹے سودے بیچنے ہوں۔ان معنوں میں یاد کرنا ہے کہ خدا کو سامنے دیکھنا ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے اور پھر جو سودا کریں گے وہ ہر سودا سچا سودا ہو گا۔اس میں کوئی کھوٹ نہیں ہوگی ، کوئی دھو کہ شامل نہیں ہو سکتا۔تمام دنیا کے تجارتی تعلقات اگر اصلاح پذیر ہو جائیں تو باقی معاملات میں بھی دنیا میں امن آجائے گا کیونکہ اصل انسان کا جو سب سے اعلیٰ مقصد ہے وہ اپنی بقا کے لئے زیادہ سے زیادہ ذرائع اکٹھے کرنا ہے اور تجارت اس میں ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔صرف ایک نہیں تجارت کی بنیاد تو بہر حال ایگریکلچر پر بھی ہے اس لیے میں بتا رہا ہوں کہ جو دنیا کے تعلقات ہیں ان میں تجارت ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔اور بعض لوگ ایسے ہیں جو ہل چلاتے وقت بھی ذکر الہی کرتے ہیں۔اور جب دانے پھینک رہے ہوتے ہیں تو اس وقت بھی ذکرِ الہی کرتے ہیں ، جب اپنی فصلوں کو اگتی ہوئی دیکھتے ہیں تو ان کی روئیدگی کو دیکھ کر بھی ان کو خدا یاد آتا ہے، جب ان میں کوئی بیماری پڑتے دیکھتے ہیں تب بھی دعائیں کرتے ہیں اور ان کو خدا کے فضلوں کا پانی بھی دیتے ہیں صرف عام پانی نہیں دیتے۔ان معنوں میں پھر ساری زراعت بھی ذکر الہی سے معمور ہو جاتی ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک بات مجھے ہمیشہ یاد رہتی ہے پہلے بھی غالبا بیان کر چکا ہوں۔ایک دفعہ سندھ میں آپ دورے کے لئے گئے تو بعض بہت اچھے اچھے منیجر تھے اور ایسے تجربہ کار تعلیم یافتہ جن کی فصلیں نمایاں طور پر ان کے علم اور تجربے کی مناسبت سے زیادہ اچھی ہونی چاہئے تھیں مگر ان کے مقابل پر ہمارے مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری بھی محمود آباد میں مینیجر تھے۔ان کی فصلیں دیکھیں تو لہلہاتی ہوئی سرسبز و شاداب اور جو دوسری فصلیں تھیں اردگرد زمینداروں کی نہ وہ مقابلہ کر رہی تھیں نہ دوسرے مینجروں کے نیچے پلنے والی فصلیں۔تو حضرت مصلح موعودؓ نے تعجب سے پوچھا کہ مولوی صاحب آپ نے کیا ترکیب کی ہے آپ تو مولوی کہلاتے ہیں آپ کو تو کوئی اتنا بڑا زراعت کا تجربہ بھی نہیں، آپ کی اچھی ہیں اور زمینداروں اور تعلیم یافتہ لوگوں کی آپ سے کم تر ہیں۔انہوں نے کہا صرف ایک بات ہے کہ میں نے ہر کھیت کے کونے پر نفل پڑھے ہیں،