خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 220
خطبات طاہر جلد 13 220 خطبه جمعه فرموده 25 / مارچ 1994ء اور اس طرح گرتے ہیں جیسے لکھی گند پر گرتی ہے۔اس طرح لوگ ان چیزوں پر ٹوٹے پڑتے ہیں گویا کہ ساری زندگی، ساری ان کی کائنات، یہی کچھ ہے۔ذلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ ایسی صورت میں خدا کو کون یاد کرتا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا ہاں یاد کرو گے اور طبعاً محبت سے یاد کرو گے تو پھر پتا چلے گا کہ حقیقی عاشق کون ہے۔پھر اس چھوٹی سی نیکی کا ، جو بظاہر بے محل ہے محل کی نیکی سے بھی زیادہ شمار ہوگا کیونکہ جب نماز کے لئے آپ مسجد میں آتے ہیں تو وہاں خدا ہی کو یاد کرنا ہے۔مگر وہاں بھی بعض لوگ بازار ہی یاد رکھتے ہیں یہ بھی ایک بات ہے۔اس لئے ان موقعوں پر اپنے ذکر الہی کی نگرانی کریں اور ان کی حفاظت کریں۔یہ ضروری نہیں ہے کہ جس شخص کو مسجد میں بازار یاد آ جائے وہ گنہگار ہے۔مختلف مراحل ہیں ، سلوک کی منزلیں ہیں۔تعلق ایک طرف سے ٹوٹتے ٹوٹتے ، ٹوٹتے ہیں۔دوسری طرف جڑتے جڑتے ، جڑتے ہیں اس لئے کوئی بعید نہیں کہ ایک انسان نیک متقی ہو اور نیت یہی ہو کہ وہ ذکر سے اپنے رب کو کمائے مگر دنیا کے تعلق پھر حملہ کر کے بار بار اس پر یورش کرتے ہوں اور اسے غافل کر دیتے ہوں۔لیکن ایک جہاد کی ضرورت ہے ایک ایسے جہاد کی جس کے لئے آپ اپنی تمام صلاحیتوں کو مستعد کرلیں اور یا درکھیں کہ یہ حملوں کے مقامات ہیں۔پس جس کو بازار میں خدا یاد آتا ہو اس کی نیکی اس لئے زیادہ ہے کہ اسے مسجد میں بازار کیسے یاد آ سکتا ہے۔اس کی تو یہ شان ہے کہ جہاں دنیا خدا بھول جاتی ہے وہاں اس نے خدا کو یاد رکھا تو جہاں جاتے ہی خدا کو یاد کرنے کے لئے ہیں اس بے چارے کو وہاں کہاں بازار میں یاد آ جانا ہے اس لئے یہ اس کنارے کی بات سے جہاں خدا کا ذکر عموما نفسیاتی کیفیتوں کے مطابق نہیں ہوتا۔ایسی حالت میں جو نیکی ہے وہ یقیناً بہت بڑا مرتبہ رکھتی ہے۔پس یہ کوئی مبالغہ آمیز روایت نہیں ہے جو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب فرما دی گئی ہو یہ ان روایتوں میں سے ہے جہاں ایک نیکی کو ہزار نیکی کہا جائے تو ہر گز بعید نہیں ہے۔پھر اس کے ساتھ جو مزید عنایت ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ایسی بخشش کا سلوک فرمائے گا جس کا خیال بھی کسی دل پر نہیں گزرا۔اب یہ الفاظ بھی جیسا کہ احادیث کو بار بار پڑھنے سے انسان کچی اور پاک احادیث کے مضمون سے ہم مزاج ہو جاتا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ الفاظ بھی یقیناً حضرت اقدس محمد مصطفی میل ہے کے ہیں۔ایسے بازار کی بات ہو رہی ہے جہاں