خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 217 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 217

خطبات طاہر جلد 13 217 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 / مارچ 1994ء ذلِكَ مَبْلَغُهُم مِّنَ الْعِلْمِ ان کا علم بھی سب کچھ دنیا کا خادم ہو چکا۔ان سے کیوں تم تعلق نہیں توڑتے۔فَاعْرِضْ عَنْ مَنْ تَوَلَّى عَنْ ذِكْرِنَا پس حکم ہے کہ ایسے لوگوں سے اپنے تعلقات ماسے تو ڑ لو، ان سے الگ ہو جاؤ کیونکہ جو نقشہ کھینچا گیا ہے ان لوگوں کا ہے جنہوں نے خدا سے تعلق تو ڑلیا ہے اور کلیۂ دنیا کے ہو گئے ہیں۔ان سے اگر میل جول بڑھاؤ گے، ان سے تعلقات رکھو گے تو تم پر بھی تمہاری اولادوں پر بھی ، دنیا کے بداثرات اس حد تک غالب آ سکتے ہیں کہ تمہیں انہی کی طرح دنیا کمانے کا شوق ہو جائے اور انہی کی طرح اپنی بڑائی ان باتوں میں دیکھو جو باتیں اللہ کے نزدیک بے معنی اور عارضی اور سطحی ہیں اور اہل خرد جو خدا تعالیٰ کا تصور اور اس کی یادر کھتے ہیں ان کے نزدیک یہ شیخیوں کی باتیں ہیں کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتیں کہ کتنا کسی نے کرلیا اور کس طرح وہ رہا یہ عارضی دنیا کی باتیں اور ان پر لذتیں لے لے کر یا فخر سے انسان کا بیان کرنا یہ اس کی اپنی پستی کی علامت ہے۔پس فرمایا کہ ایسے لوگوں سے تعلق رکھو گے تو خطرہ ہے کہ تم ویسے ہی ہو جاؤ گے۔یہ کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہے، کوئی بائیکاٹ نہیں ہے بلکہ ایک اور پہلو بھی اس میں ہے یعنی ایک تو بچنے کا پہلو ہے دوسرا خدا تعالیٰ کی محبت کا پہلو ہے جو ذکر الہی کی جان ہے۔ایک شخص جس کا ذکر اللہ ہو جس کی محبت اللہ کے ساتھ ہو، وہ ایسی مجلس میں کیسے بیٹھ سکتا ہے جس کا ذکر دنیا ہو اور دنیا ہی اس کی محبت ہو، تھوڑی دیر کے بعد طبیعت منغض ہو جائے گی۔انسان کہے گا کیسی باتیں کر رہے ہیں جو پیاری چیز ہے، سب سے زیادہ عشق کے لائق چیز ہے اس کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہے۔اللہ کا ذکر کریں گے تو ان کی آنکھوں سے یوں لگے گا جیسے روشنیاں بجھ گئی ہوں اور دنیا کی باتیں کریں گے تو ایک دم دلچسپی شروع ہو جائے گی۔ان کے ساتھ طبعا جوڑ ہی کوئی نہیں ہے تو فَاعْرِضْ عَنْ مَنْ تَوَلَّی میں صرف حکم کے معنی نہیں ہیں بلکہ اس کے ساتھ ہی اس کی روح بھی بیان فرما دی کہ تم اللہ کی محبت کرنے والے لوگ ہو، تمہارا ان لوگوں سے دل کیسے لگ سکتا ہے اور پھر محبوب کی غیرت کا بھی سوال ہے۔جس پیارے سے ان لوگوں نے منہ موڑ لیا ہے تم ان کے خوف سے ان سے منہ نہیں موڑ سکتے۔اگر ان کا تعلق اور ان کی رضا تم پر اتنی غالب ہے کہ ان سے تم منہ نہیں موڑ سکتے تو پھر اس کا مطلب ہے کہ خدا سے تمہارے تعلق کے دعوے جھوٹے ہیں۔ان معنوں میں اس مضمون کو سمجھیں لیکن اس کا غلط مطلب نہ لیں کیونکہ ظاہری تعلق اور ہمدردی بنی نوع انسان