خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 216 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 216

خطبات طاہر جلد 13 216 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 / مارچ 1994ء بچوں کا کیا کرتے ہیں؟ تو جی بچوں کے لئے ہم نے Baby Sitter رکھا ہوا ہے۔اب جس کے بچے بے بی سٹر کے سپرد ہو جائیں اور وہ آپ دنیا کی دولت کے سپر د ہو جائے اس بے چارے کی اولاد کا کیا بنے گا۔ایک دفعہ مجھے مشرق وسطی سے ایک فون آیا کہ جی میں ایک کام کرتی ہوں سنا ہے آپ ناراض ہیں۔میں نے کہا تمہارا نام لے کے تو ناراض نہیں ہوں مگر تمہارے حالات میں جانتا ہوں، تمہارا خاوند اچھا بھلا کماتا ہے، تمہیں خدا نے بہت پیاری اولا دبخشی ہے تو کیوں تم اس کو چھوڑ کر دنیا کے پیچھے بھاگ رہی ہو۔اس نے کہا میں وعدہ کرتی ہوں آئندہ ایسا نہیں کروں گی۔تو دنیا سے جو وسیع تعلق ہے خلافت کا اس کے نتیجے میں ساری دنیا ایک خاندان کی طرح بنی ہوئی ہے اور سب بے تکلف بات کرتے اور باتیں پہنچاتے ہیں۔اسی لئے ان امور پر جتنی نظر خلیفہ وقت کی ہو سکتی ہے، خواہ کوئی بھی خلیفہ ہو بعد میں آنے والا یا پہلے گزرا ہوا، اتنی دنیا میں کسی اور منصب کو یہ معلومات نصیب نہیں ہوتیں کیونکہ وہ ایک ذاتی تعلق سے جستجو بھی کرتا ہے اور لوگ از خود بھی اس تک اپنے حالات پہنچاتے ہیں۔ان کی روشنی میں وہ انسانی نفسیات سے تعلق رکھنے والے مسائل جو شاید بعض دوسروں کے لئے حل کرنا دو بھر ہوں، ان پر مشکل ہوں لیکن یہ تمام جماعت کی مدد سے از خود آسان ہوتے چلے جاتے ہیں۔پس یہاں جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَلَا اَوْلَادُكُمْ یہ کسی حکمت کے پیش نظر ہے یو نہی اتفاقاً اموال کو پہلے اور اولاد کو بعد میں نہیں رکھا گیا اور ساتھ ہی دوسری آیت جو میں نے پڑھی ہے اس کا اس سے گہرا تعلق ہے۔فرمایا فَأَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلَّى عَنْ ذِكْرِنَا وَلَمْ يُرِدُ إِلَّا الْحَيَوةَ الدُّنْيَا - کہ وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے ذکر کو چھوڑ دیتے ہیں اور ان کی مراد صرف دنیارہ جاتی ہے۔یہاں اولا د کا بھی ذکر نہیں کیا آخری منتهی بعض وجودوں کا صرف دنیارہ جاتی ہے اس کے سوا کوئی ہوش نہیں رہتی بلکہ ایسے باپ بھی دیکھے گئے ہیں جو کروڑ پتی ہوتے ہیں اور اپنی اولادوں کو پیچھے پھینکتے ہیں اور ان سے وہ اگر کچھ حاصل کرنا چاہیں تو ان کو تکلیف پہنچتی ہے۔اولا دکو دھکے دے کے خود بر بادکر دیتے ہیں تو یہ آخری مقام ہے جہاں تک انسان اپنی ذلت کی انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔وَلَمْ يُرِدُ إِلَّا الْحَيُوةَ الدُّنْيا ان سے تعلق جوڑو گے تو پھر تمہارا بھی یہی حال ہو جائے گا۔