خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 16 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 16

خطبات طاہر جلد 13 16 خطبه جمعه فرموده 7 / جنوری 1994ء کے ساتھ نہیں۔اس لئے وہ خدا کے بندے جو خدا کا قرب چاہتے ہوئے دن گزارتے ہیں جب وہ رات کو سوتے ہیں تو ان کا عالم برزخ ایک قسم کی جنت کا عالم برزخ ہوتا ہے۔پس سوتے بھی اللہ کا نام لے کر تھے اٹھتے بھی اللہ کا نام لے کر تھے اور رات کے وقت مختلف رویائے صادقہ کے ذریعے وحی جاری رہتی تھی اور اللہ کی طرف سے اپنے قرب کی ایسی علامتیں ضرور نصیب ہوتی ہوں گی جن کو ہم جنت کی کھڑکیوں کے ٹھنڈے جھونکے قرار دے سکتے ہیں۔حضرت عبد اللہ بن سر جس کی روایت ہے کہ سفر پر روانہ ہوتے تو خدا کے حضور یہ عرض کرتے ”اے اللہ سفر میں تو ہی ہمارا ساتھی ہے اور گھر میں تو ہی نگران ہے۔اے اللہ ہمارے سفر میں تو ہمارا ساتھی بن اور ہمارے اہل پر ہمارا جانشین می دو باتیں ہیں۔اے اللہ سفر میں تو ہی ہمارا ساتھی ہے اور گھر میں تو ہی نگران ہے ایک یہ بیان کیا ہے اور ساتھ ہی یہی دعا کی ہے کہ اے اللہ ہمارے سفر میں تو ہمارا ساتھی بن اور ہمارے اہل میں ہمارا جانشین بن۔( ترمذی کتاب الدعوات: 3360) اس میں ایک تو مستقل طور پر جو دائی حقیقت ہے اس کا بیان ہے کہ سفر میں اللہ کے سوا کوئی ساتھی نہیں ہے حقیقت میں وہی ہے اور گھر کا بھی حقیقی نگران وہی ہے۔یہ ایک عام جاری وساری کیفیت کا اور حقیقت کا حال بیان ہو رہا ہے اس کے نتیجے میں پھر ذہن دعا کی طرف مائل ہوتا ہے اور بذات خود انسان با شعور طور پر یہ تمنا کرتا ہے کہ اے اللہ تیرے سوا کوئی سفر کا ساتھی ہو نہیں سکتا اس لئے تو ہمارا ساتھی بن جا یعنی بالا رادہ ہمارے ساتھ ہو۔ہماری ہر مشکل اور مصیبت میں کام آ اور پیچھے ہمارے گھر کا تو ہی نگران اور جانشین ہو جا، یعنی گھر کو ہر قسم کی آفات سے بچائے رکھ۔ہر قسم کی ضرورتیں ان کی پوری فرمانے والا ہو۔ہر قسم کے خوف سے امن دینے والا ہو۔پس صرف اپنے لئے جاتے ہوئے دعا نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے لئے بھی جن کو پیچھے چھوڑ کر جایا کرتے تھے اور دونوں کو اللہ ہی کے سپر در کھتے تھے۔اے اللہ ہم سفر کی مشقت سے اور بُرے لوٹنے سے تجھ سے پناہ مانگتے ہیں۔یعنی سفر میں جو مصیبتیں پہنچتی ہیں ان کی مشقت سے بھی اور بد حال گھروں کو لوٹنے سے، تجھ سے پناہ مانگتے ہیں اور مظلوم کی پکار سے اور کسی بُرے منظر سے۔مظلوم کی پکار سے اور برے منظر سے اس لئے کہ حادثات بھی ہوتے رہتے ہیں صرف یہی نہیں کہ آپ ہی پناہ میں آئیں بلکہ اگر کسی تکلیف دہ منظر کو آنکھوں سے دیکھ بھی لیں تو وہ بھی بڑی تکلیف کی چیز ہے تو فرمایا کہ نہ صرف ہم تک