خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 206 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 206

خطبات طاہر جلد 13 206 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 / مارچ 1994ء نے بیان فرمایا پس دوبارہ غور سے سنیں۔د محض اپنے فضل اور کرامت خاص سے اس عاجز کی دعاؤں اور اس ناچیز کی توجہ کو ان کی پاک استعدادوں کے ظہور و بروز کا وسیلہ ٹھہرا دئے جہاں جہاں بھی لوگوں کے دلوں میں پاک صلاحیتیں موجود ہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ میری دعاؤں اور میرے تو جہات کو ان کے ابھر کے نکل آنے اور نکھر آنے پر ایک وسیلہ بنادے اور اس قدوس اور جلیل الذات نے مجھے جوش بخشا تا کہ میں ان طالبوں کی تربیت باطنی میں مصروف ہو جاؤں اور ان کی آلودگی کے ازالہ کے لئے رات دن کوشش کرتا رہوں۔“ جو اللہ تعالیٰ الہام قائم فرماتا ہے اس کو ہمدردی کا جوش عطا کرتا ہے اور اس ہمدردی کے جوش کا بنی نوع انسان کی ہمدردی کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے۔وہی مضمون ہے جس کا پہلے بھی ذکر گز را اور اسی مضمون کو نسبتا اپنی اعلیٰ ارفع شان کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے۔پہلے عام طالب حق کے تعلق میں غریبوں سے ہمدردی، یتیموں سے ہمدردی کا ذکر تھا۔اب اس کا ذکر ہے جسے خدا نے ساری دنیا کی راہنمائی کے لئے چنا تھا اور اس کا تعلق بھی اسی بات سے باندھا جا رہا ہے، ہمدردی اور جوش کے ساتھ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بچپن کے حالات میں آپ دیکھیں گے کس طرح غریبوں کے لئے اپنا کھانا بھی تقسیم کر دیا کرتے تھے بعض دفعہ چنے کھا کر گزارا کر لیا کرتے تھے۔بعض دفعہ فاقہ کر لیا کرتے تھے۔بے انتہا جوش تھا غریبوں کی ہمدردی کا اور یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔غریبوں کی ہمدردی کبھی بے فیض نہیں رہی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ تم غریبوں کے ممنونِ احسان ہو تم ان کے اوپر جو رحم اپنی طرف سے کرتے ہو یا ان کا خیال کرتے ہوا نہی کی وجہ سے ہی تو خدا تمہیں روزی دے رہا ہے۔غریبوں کو نکال دو تو ساری سوسائٹی غریب ہو جائے گی۔غریبوں کی محنت ان کا اخلاق اور ان کی خدمتیں ہیں جو قوم کو دولت عطا کرتی ہیں۔وہ تمہارے ممنونِ احسان نہیں تم ان کے ممنون احسان ہومگر روحانی دنیا میں بھی غربت کا احسان ہے ایک طرح پر ، جوغریبوں سے تعلق جوڑے اللہ اس سے تعلق جوڑتا ہے اور جتنا کسی کے دل میں زیادہ ہمدردی ہو اتنا ہی اس کو بڑا مرتبہ عطا فرما تا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دوبارہ اس مضمون کو اٹھاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تم میں اور مجھ میں فرق کیا ہے۔ایک یہ کہ دعا کے لئے میرے دل میں بڑا جوش ہے، دوسرے تمہارے