خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 204 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 204

خطبات طاہر جلد 13 204 خطبه جمعه فرمود : 18 / مارچ 1994ء شخص غریبوں کا ہوتا ہے اور یتیموں کا درد رکھتا ہے وہی اعلیٰ قدروں کے لئے قربانی کا مادہ رکھتا ہے۔یا درکھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دو الگ الگ باتیں اتفاقا بیان نہیں فرما ئیں۔وہ دل جوغریبوں کی ہمدردی سے عاری ہے وہ دل جسے یتیم کا دکھ محسوس نہیں ہوتا وہ خدا کے کاموں پر فدا ہونے کوئی بھی صلاحیت نہیں رکھتا۔فدائیت کے لئے دردمندی چاہئے۔پہلے دل گداز پیدا کرے پھر اسے توفیق ملتی ہے کہ اعلیٰ قدروں کے لئے وہ قربانیاں پیش کرے۔فرمایا کہ جود نیا میں قربانیوں کا مادہ ہی نہیں رکھتا، جسے پتا ہی نہیں کہ دکھ ہوتے کیا ہیں اور ان میں شریک ہونے کے لئے اس میں بیقرار طلب نہیں پائی جاتی اس نے خدا کے کیا کام آنا ہے۔بہت ہی عظیم تحریر ہے۔ایک ایک لفظ آسمان سے نور سے لکھا گیا اور اسی لئے میں نے بتایا تھا کہ اس آیت نور سے گہرا تعلق ہے جس کی میں نے تلاوت کی تھی۔فرماتے ہیں غریبوں کی پناہ ہو جائیں یتیموں کے لئے بطور باپوں کے بن جائیں اور اسلامی کاموں کے سر انجام دینے کے لئے عاشق زار کی طرح فدا ہونے کو تیار ہوں اور تمام تر کوششیں اس بات کے لئے کریں کہ ان کی عام برکات دنیا میں پھیلیں اور محبت الہی اور ہمدردی بندگان خدا کا پاک چشمہ ہر یک دل سے نکل کر اور ایک جگہ اکٹھا ہو کر ایک دریا کی صورت میں بہتا ہوا نظر آوے۔“ اب یہ ایک عبارت بظاہر ایک عام لفظوں کی ہے جو بہت مشکل لفظ نہیں ہیں۔لیکن سمجھائے بغیر سمجھ نہیں آئے گی۔فرماتے ہیں وہ تمام تر کوشش اس بات کے لئے کریں ان کی عام برکات دنیا میں پھیلیں۔سیہ تو صاف بات ہے یہ تو سمجھ میں آتی ہے جس میں برکتیں ہیں وہ تو پھیلیں گی لیکن ایک شرط آخر لگائی گئی ہے جو بہت ہی قابلِ غور ہے اور ” محبت الہی اور ہمدردی کبندگان خدا کا پاک چشمہ ہر یک دل سے نکے لیکن الگ الگ نہ پھیلے ، ہر ایک دل سے نکل کر ایک جگہ اکٹھا ہو جائے ایک دریا کی صورت میں بہتا ہوا نظر آئے۔اب یہ وقت نہیں ہے جب خدا تعالی دوبارہ دنیا میں اتحاد پیدا کیا کرتا ہے اور ایک الہی جماعتیں بنایا کرتا ہے انفرادی نیکیاں پھر کام نہیں آتیں اور بے معنی ہو جاتیں ہیں۔اگر ہر چشمہ جو پہاڑوں سے پھوٹتا ہے وہ الگ الگ رستے بنالے اور مل کر ایک دریا کی صورت اختیار نہ کرے اس کا فیض دنیا میں پھیل ہی نہیں سکتا اور وہ بڑے عظیم کام جو دریا کر کے دکھاتے ہیں وہ ایسے چھوٹے