خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 195
خطبات طاہر جلد 13 195 خطبه جمعه فرمودہ 18 مارچ 1994ء بنی نوع انسان سے ہمدردی اور حضرت مسیح موعود کا جوش آپ کی تمنا کہ جماعت روح القدس بن جائے ۔ ( خطبه جمعه فرموده 18 مارچ 1994ء بمقام بيت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کریمہ تلاوت کی :۔ اللَّهُ نُورُ السَّمُوتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبْرَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارُ نُورٌ عَلَى نُورٍ يَهْدِى اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ ۔ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ پھر فرمایا :۔ لا ( النور : ۳۶) اسلام کے جو مقاصد ان آیات میں بیان ہوئے ہیں۔ وہی مقاصد ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت کے بیان فرمائے اور بالآخر آخری تمنا کا جو اظہار فرمایا ہے وہ یہی ہے کہ یہ جماعت اور اس کے ماننے والے نور ہو جائیں۔ ایسا نور جو بلند جگہوں پر رکھا جائے ایسا نور جو دور دور تک دکھائی دے اور لوگ اس سے روشنی پائیں۔ جن آیات کی میں نے تلاوت کی